Al-Risala · April 2013 · page

نصرت باعتبارِ حفاظت

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

نصرت باعتبارِ حفاظت

جیسا کہ عرض کیا گیا ، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا۔ آپ نے یک طرفہ طور پر امن کی روش اختیار کرتے ہوئے اپنے مشن کو جاری رکھا۔ اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ انھوں نے آپ کے ساتھ مخالفت کا طریقہ اختیار کیا۔ جب حالات بہت زیادہ شدید ہو گئے ، اُس وقت بھی آپ نے ٹکراؤ سے مکمل اعراض کیا۔ یہاں تک کہ نبوت کے 13 سال بعد آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ آ گئے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آپ نے اور آپ کے اصحاب نے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ اپنے مقامِ عمل (work place) کو بدل دیا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ہجرت کے بعد بھی مکہ کے مشرک سردار خاموش نہیں ہوئے ، بلکہ انھوں نے یک طرفہ طور پر مسلح جارحیت کا طریقہ اختیار کیا۔ انھوں نے باقاعدہ جنگی تیاری کر کے مدینہ پر حملہ کر دیا۔ یہ واقعہ پیغمبرِ اسلام کی ہجرت کے 16 ماہ بعد پیش آیا۔ مدینہ سے تقریباً 80 میل دور بدر کے مقام پر دونوں فریقوں کے درمیان جنگ ہوئی۔ اس جنگ کو تاریخ میں غزوہ بدر کہا جاتا ہے۔ یہ صرف یک روزہ جنگ تھی جو 17 رمضان 2 ہجری کو پیش آئی۔ اس جنگ میں فریقِ مخالف کی طرف سے ایک ہزار مسلح افراد تھے جو پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ دوسری طرف 313 کی تعداد میں اصحابِ رسول تھے، جو کم تر جنگی تیاری کے باوجود اپنے دفاع کے لیے بدر کے مقام پر پہنچے تھے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خود بنفسہ عملاً اس جنگ میں شریک نہ تھے۔ البتہ آپ کے لیے میدانِ جنگ سے باہر وقتی طور پر ایک عریش (hut) بنایا گیا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ جب دونوں گروہوں کے درمیان مسلح ٹکراؤ کا وقت آیا تو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گر پڑے۔ اُس وقت آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے: اللهم إنك إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام فلا تعبد في الأرض أبدا (مسند أحمد : 1/ 112) یعنی اے اللہ، اگر تو اس گروہ کو ہلاک کر دے تو اس کے بعد زمین پر کبھی تیری عبادت نہ ہوگی۔

اللہ تعالیٰ نے پیغمبرِ اسلام کی دعا قبول فرمائی اور قرآن (3:124-125) کے بیان کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page