Al-Risala · April 2013 · page

نصرت باعتبارِ حفاظت

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

مطابق ،میدان جنگ میں کئی ہزار کی تعداد میں فرشتے بھیجے ۔ اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا، اُس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ (3:123) یہ معاملہ جو غزوہ بدر کے وقت پیش آیا، وہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ یہ وہی چیز تھی جس کو ہم نے نصرت باعتبارِ حفاظت سے تعبیر کیا ہے، یعنی منصوبہ الہی کی تکمیل سے پہلے مخالفین نے یک طرفہ حملہ کر کے یہ کوشش کی کہ اصحاب رسول کا خاتمہ کر دیا جائے، مگر یہ قبل از وقت تھا۔ ابھی وہ وقت آنے والا تھا جب کہ اصحاب رسول کی جماعت اپنا آخری دعوتی رول ادا کرے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ اس جماعت کو مخالفین کے حملے سے بچا کر محفوظ رکھا جائے۔

اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے جب مکہ میں اپنا دعوتی مشن شروع کیا، اُسی وقت سے اللہ تعالیٰ کا ایک منصوبہ زیرِ عمل آگیا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ ایک مدت تک مختلف واقعات کے دوران پیغمبر اسلام اور آپ کی دعوت توحید کا خوب چرچا ہو، تا کہ مکہ اور اطرافِ مکہ کے لوگ اُس سے باخبر ہو جائیں۔ لوگوں کے اندر بڑے پیمانے پر اس بارے میں تجسس (curiosity) پیدا ہو جائے اور پھر اُن کے اس تجسس کو استعمال کر کے یہ موقع فراہم کیا جائے کہ لوگ بڑے پیمانے پر آپ کے مشن کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ نصرت باعتبارِ پر اس پر اس کے اس معاملے کو قرآن میں رفع ذکر (94:4) کہا گیا ہے، یعنی لوگوں کے درمیان توحید کے مشن کا چرچا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں اپنی دعوتی مشن کا آغاز کیا تو ہر دن نئے نئے واقعات پیش آتے رہے — کبھی آپ، لوگوں کے مجمع میں جا کر اُن کو قرآن سنارہے ہیں، کبھی مکہ کے کسی آدمی کے قبولِ اسلام پر مخالفین کی طرف سے اس پر تشدد کیا جارہا ہے، کبھی کسی مسلمان کو حرم مکہ میں نماز پڑھنے سے روکا جارہا ہے، کبھی باہر سے مکہ آنے والا کوئی شخص پیغمبر اسلام سے اس معاملے میں سوال و جواب کر رہا ہے، کبھی حج کا موسم ہے اور مختلف قبائل کے لوگ مکہ آ رہے ہیں اور آپ وہاں جا کر اُن کے سامنے اپنے مشن کا تعارف پیش کر رہے ہیں، کبھی آپ کا اور آپ کے خاندان کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے، کبھی مکہ کے سرداروں کی ایذا رسانی سے مجبور ہو کر اصحاب رسول کا ایک قافلہ مکہ سے ہجرت کر کے حبش جا رہا ہے، کبھی آپ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page