Al-Risala · April 2013 · page

حکمت حدیبیہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

پھیل گئیں ۔ انھوں نے ہر جگہ اپنا دبدبہ قائم کر دیا۔ یہ واقعہ زیادہ بڑے پیمانے پر اٹھارھویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ اُس وقت کی دنیا میں مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں قائم تھیں— برصغیر ہند میں مغل ایمپائر، ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں ترک ایمپائر، وغیرہ۔ مغربی قوموں نے مسلمانوں کی ان سلطنتوں کو مغلوب کر لیا اور ہر جگہ اپنا دبدبہ قائم کر لیا۔ اس عمل کا نقطہ آغاز متعین کرنا ہو تو وہ 1799 قرار پائے گا۔ اسی سال دو بڑے فیصلہ کن واقعے ہوئے۔ ایک طرف، اسی سال بحر متوسط (naval fleet) میں مغربی طاقتوں نے ترکوں کے عظیم بحری بیڑہ (Mediterranean Sea) پر حملہ کر کے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اور دوسری طرف، اسی سال برٹش فوج نے سلطان ٹیپو کی فوج کو کامل شکست دے دی۔ اس کے بعد برٹش جنرل نے فاتحانہ جذبے کے ساتھ کہا تھا کہ— آج انڈیا ہمارا ہے! (Today, India is ours! )۔

اس کے بعد انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں مسلسل اس طرح کے واقعات ہوتے رہے۔ مثلاً 1857 میں انڈیا میں مغل سلطنت کا خاتمہ، 1924 میں خلافت عثمانی کا خاتمہ، 1948 میں اسرائیل کا قیام، اور پھر دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کے بعد نام نہاد امریکی امپیریل ازم (American Imperialism) کا ظہور، وغیرہ۔

اس طرح کے واقعات نے پوری مسلم دنیا میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ ہر جگہ نفرت اور تشدد اور جہاد ایکٹوزم شروع ہو گیا۔ ہر جگہ کے مسلمانوں میں وہی جارحانہ کلچر وجود میں آگیا جس کی ترجمانی عرب شاعر خیر الدین الزرکلی (وفات: 1976) کے ان الفاظ سے ہوتی ہے :

هاتِ صلاح الدين ثانيةً فينا جدّدی حطینا أو شبه حطين (صلاح الدین کو دوبارہ ہمارے درمیان لے آؤ۔ حطین یا حطین جیسا معرکہ دوبارہ گرم کرو) واقعات بتاتے ہیں کہ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کی دوسوسالہ مدت تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ’’جہادا یکٹوزم‘‘ کی صدی تھی۔ تمام مسلم دنیا اس جہادا یکٹوزم میں شامل تھی، اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ تقریر اور تحریر کی زبان میں نفرت اور تشدد کی بولی بول رہے تھے، اور بقیہ لوگ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page