حکمت حدیبیہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
قرآن کی اس آیت میں بظاہر دنیا کا اور آخرت کا ذکر ہے، مگر اس آیت کا ایک توسیعی مفہوم (extended sense) بھی ہے، جس کا اشارہ آیت کے اس لفظ میں ملتا ہے: يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (30:7)۔ گو یا دنیا کا ایک ظاہر ہے اور ایک اس کا باطن ہے۔ مگر ظاہر ہیں لوگ صرف اس کے ظاہر کو جانتے ہیں، وہ اس کے باطن سے بے خبر رہتے ہیں، یعنی اکثر لوگ چیزوں کو ان کے فیس ویلو(face-value) پر لیتے ہیں، حالات کے گہرے پہلوؤں تک ان کی نظر نہیں پہنچتی۔ یہ آیت قرآن میں صلح حدیبیہ کے سیاق میں اتری۔ اس پس منظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے آیت پر غور کیجئے تو اس سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سطح (surface) پر جو کچھ نظر آتا ہے، وہ صرف حالات کا ظاہری پہلو ہوتا ہے، اس کے سوا ایک اور چیز ہوتی ہے جو انڈر کرنٹ (undercurrent) ہوتی ہے۔ جس آدمی کے اندر ربانی بصیرت ہو، وہ سطح سے گزر کر انڈر کرنٹ امکانات کو دیکھ لے گا۔ وہ سطح کی باتوں کو نظر انداز کرے گا اور جو چیز انڈر کرنٹ ہے، اس کو دریافت کرکے اس کے مطابق، اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے گا۔
یہ ایک حکمتِ حیات ہے، یعنی سطح کی باتوں کو نظر انداز کرکے انڈر کرنٹ جو حالات ہیں، ان کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرنا۔ معاہدۂ حدیبیہ اسی حکمت کی ایک پیغمبرانہ مثال ہے۔ یہ مثال پیروانِ رسول کے لیے ایک ابدی ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیروانِ رسول کو چاہیے کہ وہ رسول اللہ کے اس نمونے کو اپنے حالات پر منطبق کریں اور اُس عظیم کامیابی کے حصے دار بنیں جو اس حکمت پر اللہ نے مقدر کی ہے۔ اکیسویں صدی میں حدیبیہ منصوبہ اکیسویں صدی میں دوبارہ وہی حالات زیادہ بڑے پیمانے پر پیدا ہو گئے ہیں جو کہ پہلی صدی ہجری میں معاہدہ حدیبیہ کے وقت عرب میں پیدا ہوئے تھے۔ اکیسویں صدی میں دوبارہ پوری طرح وہ امکان پیدا ہو گیا ہے جب کہ معاہدہ حدیبیہ کی تاریخ کو عالمی سطح پر دہرایا جائے۔ اس امکان کو اپنے حق میں واقعہ بنانے کی شرط دوبارہ وہی ہے جو دو راؤل میں پیش آئی، اور وہ ہے صابرانہ دانش مندی یا دانش مندانہ صبر۔ موجودہ زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مغربی قومیں نئے ذرائع سے مسلح ہو کر پوری دنیا میں
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues