سیکولر مثال
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
(Nagasaki) پر اگست 1945 میں دو ایٹم بم گرائے- یہ جاپان کے لیے ایک ہلاکت خیز تجربہ تھا۔ اس کے بعد جاپان بظاہر پوری طرح تباہ شدہ ملک بن گیا۔
اُس وقت جاپان کا سیاسی لیڈر ہیرو ہٹو (Hirohito) تھا۔ ہیرو ہٹو ایک مدبر آدمی تھا۔ اس نے اپنی بصیرت سے یہ جانا کہ سرفیس پر جو حالات ہیں، وہ بظاہر جاپان کے لیے ناموافق ہیں، لیکن انڈرکرنٹ جو صورت حال ہے، وہ جاپان کے لیے ایک موافق امکان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُس وقت کی دنیا میں دو بڑی طاقتیں تھیں— روس اور امریکا۔ دونوں ملک بھاری مصنوعات (hardware) میں مشغول تھے اور ہلکی مصنوعات (software) کا میدان تقریباً خالی تھا۔ جاپان نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اس حقیقت کو جانا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس مخفی امکان کو استعمال کرے۔ اس کے بعد جاپان نے دو کام کیے۔ ایک طرف، جاپان نے یہ کیا کہ اس نے امریکا سے ٹکراؤ کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا، اور اپنی ساری تو جہ تعلیم اور صنعت کے میدان کی طرف موڑ دیا۔ اس کے بعد جو ہوا، وہ یہ کہ تقریباً 30 سال کے اندر جاپان کی ایک نئی تاریخ وجود میں آگئی۔ جاپان نے نہ صرف جنگ کے نقصانات کی تلافی کردی، بلکہ اس نے اتنی ترقی کی وہ جدید دور میں اقتصادی سپر پاور (economic superpower) بن گیا۔ یہ معجزہ اس طرح پیش آیا کہ جاپان نے سرفیس کے حالات کو نظر انداز کیا اور انڈر کرنٹ جو امکانات چھپے ہوئے تھے، ان کو استعمال کیا۔ اس معاملے کی دوسری مثال وہ ہے جو انڈيا میں پیش آئی۔ انڈیا میں تقریباً 200 سال تک برٹش حکومت قائم رہی۔ 1857 میں انڈیا میں آزادی کی لڑائی شروع ہوئی۔ یہ لڑائی ہتھیاروں کے بل پر شروع کی گئی تھی۔ اس جنگ میں کچھ مسلم لیڈر اور کچھ ہندو لیڈر شریک تھے۔ آزادی کی یہ جنگ تقریباً 60 سال تک جاری رہی، مگر اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کسی اور صورت میں نہیں نکلا۔ آخرکار 1919 میں مہاتما گاندھی سیاست کے میدان میں آئے اور انھوں نے جنگ آزادی کی قیادت سنبھالی۔ اُس وقت انڈیا بظاہر ایک تباہ شدہ ملک بنا ہوا تھا، لیکن مہاتما گاندھی نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اس حقیقت کو جانا کہ یہاں انڈرکرنٹ ایک اور صورت حال موجود ہے جو انڈیا کے لیے ایک موافق امکان کی حیثیت
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues