Al-Risala · April 2013 · page

سیکولر مثال

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

رکھتی ہے ۔ شرط صرف یہ ہے کہ تشدد کا طریقہ چھوڑ کر امن کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ یہ انڈر کرنٹ امکان کیا تھا ، وہ یہ تھا کہ جس زمانے میں برطانیہ انڈیا پر حکومت کر رہا تھا ، اُسی زمانے میں یورپ کے ملکوں میں شاہی خاندان راج کر رہے تھے ۔ اِن یورپی ملکوں میں ان حکومتوں کے خلاف بہت بڑے پیمانے پر تحریکیں اٹھیں ۔ بڑے بڑے یورپی دماغوں نے یہ نظریہ پھیلایا کہ کسی خاندان کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی ملک پر حکومت کرے ۔ اِس سیاسی تحریک کے نتیجے میں ایک سیاسی اصول پورے یورپ میں ایک مسلّمہ اصول بن گیا ۔ اِس اصول کو عام طور پر حکومتِ خود اختیاری (self-determination) کا اصول کہا جاتا ہے :

The right of a people to decide upon its own form of government without coercion or outside influence. یہ سیاسی انقلاب یورپ میں پہلے فکری سطح پر آیا ۔ اس کے بعد اس نے عملی صورت اختیار کی ۔ اس سیاسی انقلاب کا پہلا عملی اظہار فرانس میں ہوا ۔ یہ فرنچ ریولوشن (French Revolution) تھا جو 1789 میں پیش آیا ۔ اس انقلاب کے بعد فرانس میں شخصی بادشاہت ختم ہو گئی اور جمہوری حکومت قائم ہو گئی ۔ دھیرے دھیرے یہ انقلاب پورے یورپ میں پھیل گیا ۔

مہاتما گاندھی نے اس سیاسی مسلّم کو استعمال کیا ۔ انھوں نے کہا کہ خود یورپ کے حالات بتاتے ہیں کہ اب بادشاہت کا دور ختم ہو چکا ہے اور ہر ملک کو حق ہے کہ وہ اپنے یہاں قومی حکومت قائم کرے ۔ مہاتما گاندھی نے اس اصول کو لے کر انڈیا کی تحریک آزادی کو نیا رخ دے دیا ۔ انھوں نے تشدد کا طریقہ چھوڑ کر پورے معنوں میں پر امن طریقہ اختیار کیا ، جس کو وہ اہنسا (non-violence) کہتے تھے ۔ مہاتما گاندھی کی یہ پر امن جدو جہد آزادی برٹش حکومت کے لیے نیا مسئلہ بن گئی ۔ انھوں نے محسوس کیا کہ پہلے ، جد و جہد آزادی کو دبا نا آسان تھا ۔ کیوں کہ وہ لوگ برٹش حکومت کے خلاف ہتھیار استعمال کرتے تھے ۔ اس طرح برٹش حکومت کو موقع ملتا تھا کہ وہ ان کے خلاف ہتھیار استعمال کر کے انھیں کچل دے ۔ اس تبدیلی نے برٹش حکمرانوں سے ہتھیار کے استعمال کا جواز چھین لیا ۔ اس صورتِ حال کا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page