احبار ورہبان کی پیروی
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
احبار ورہبان کی پیروی
قرآن کی سورہ التوبہ میں یہود و نصاری کے دور زوال کی ایک کمزوری کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: اتخذوا أحبارهم ورهبانهم أرباباً من دون الله (9:31) یعنی انھوں نے اللہ کے سوا، اپنے علما اور مشائخ کو اپنا رب بنا ڈالا۔
عدی بن حاتم الطائی (وفات: 68ھ) عرب کے ایک عیسائی تھے۔ مدنی دور میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے قرآن کی اس آیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔ آپ نے اُن کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہود ونصاری کا یہ حال ہو گیا کہ اُن کے احبار ورہبان نے حلال کو حرام بتایا اور حرام کو حلال بتایا اور یہود ونصاری نے اس کو مان لیا۔ یہی وہ چیز ہے جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے ۔ انھوں نے اپنے احبار ورہبان کو اپنا رب بنا لیا۔
یہ دراصل حامل کتاب امتوں کے دور زوال کا ایک ظاہر ہ ہے۔ دور زوال میں یہ ہوتا ہے کہ خدا کی کتاب اُن کے لیے ان کے دین کا اصل ماخذ نہیں رہتی، بلکہ ان کے علما ومشائخ کے اقوال اُن کے دین کا ماخذ بن جاتے ہیں۔ دور زوال سے پہلے افراد امت کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں : إيتوني شيئاً من كتاب الله حتى أقول ۔ لیکن جب دور زوال آتا ہے تو وہ کہتے ہیں : إيتوني شيئاً من أقوال العلماء حتى أقول ۔ اس طرح گویا دور زوال کا مطلب ہے ۔ دین میں مرجع اور ماخذ کا بدل جانا (change in source of reference)۔
موجودہ زمانے میں مسلم ملت کا جو حال ہے، اُس پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ مسلم ملت موجودہ زمانے میں عین اسی حالت پر پہنچ چکی ہے۔ مسلمانوں کی تقریر و تحریر کو دیکھیے، اُن کے اداروں میں جو کلچر رائج ہے، اس پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان حقیقتاً قرآن وسنت پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ عملاً وہ اپنے اکابر کے دین پر کھڑے ہوئے ہیں۔