اللہ کی ایک سنت
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
اللہ کی ایک سنت
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت، حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے مطابق، پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: لقد كان فيما قبلكم من الأمم ناس محدّثون، فإن يك في أمتي أحد فإنه عمر (صحیح البخاري، کتاب فضائل الصحابه، باب مناقب عمر بن الخطّاب، رقم الحدیث : 3689) یعنی تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، اُن میں محدّث افراد ہوتے تھے۔ اگر میری امت میں ایسا کوئی شخص ہوگا تو وہ عمر ہیں۔
شارحینِ حدیث نے محدّث کی شرح مکلّم اور مُلہَم کے الفاظ میں کی ہے، یعنی وہ شخص جس سے فرشتے بات کریں، یا جس پر الہام کیا جائے۔ انگریزی میں اس کو انسپائَرڈ شخص (inspired person) کہا جاسکتا ہے۔ شارحین نے اس کو پر اسرار کرامت کے معنی میں لیا ہے اور محدثین نے اس کو مناقبِ صحابہ یا فضائلِ صحابہ کے عنوان کے تحت نقل کیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک سنتِ الہی ہے، یعنی انسانی ہدایت کا خدائی انتظام، نہ کہ محض ایک شخصی کرامت۔ اصل یہ ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے اللہ نے دو قسم کا انتظام کیا ہے ایک، پیغمبر کے ذریعے، اور دوسرا، ملہم انسان (inspired person) کے ذریعے ۔ پیغمبر پر اللہ کی ہدایت ملفوظ وحی کے ذریعے آتی ہے جس کو علما وحی متلو کہتے ہیں۔ اسی نوعیت کا معاملہ محدث یا ملہم انسان کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اس کو فرشتوں کے ذریعے مسلسل طور پر خدائی رہنمائی ملتی رہتی ہے۔ اس کی وجہ سے وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو ہر صورتِ حال میں صحیح رہنمائی دے سکے۔ پیغمبر ایک صاحبِ وحی رہنما ہوتا ہے، اور محدث انسان ایک صاحبِ الہام رہنما۔ یہ معاملہ اللہ کی خصوصی رحمت کی بنا پر ہوتا ہے۔ پیغمبر کے بعد اللہ اگر محدث یا ملہم افراد پیدا نہ کرے تو بدلے ہوئے حالات میں لوگوں کے لیے خدا کی رہنمائی کو جاننا ناممکن ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحیح رہنمائی صرف خدائی مدد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، پیغمبر کے زمانے میں بھی اور محدث انسان کے زمانے میں بھی۔