فطرت کا ایک اصول
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
فطرت کا ایک اصول
علم نباتات کی ایک اصطلاح ہے جس کو ٹرانسپلانٹیشن (transplantation) کہا جاتا ہے، یعنی پودے کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانا، تا کہ وہ بہتر نشوونما پائے: The act of removing a plant from one location and introducing it in another location. یہی اصول انسانی زندگی کے لیے بھی ہے۔ انسانی گروہ کے لیے بھی کبھی یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس کے عمل کے مقام کو بدلا جائے، تا کہ وہ زیادہ بہتر طور پر اپنا کام انجام دے سکے۔ اسلام میں ہجرت کا مقصد یہی ہے۔ اسلام کے مطابق، ہجرت سادہ طور پر صرف ترک مقام کے معنی میں نہیں، بلکہ وہ عمل کی تبدیلی کے معنی میں ہوتی ہے۔
اس ہجرت کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک ہے عمل کے مقام (place of work) کو بدلنا۔ اور دوسرا وہ ہے جس کو رول کی تبدیلی (change of role) کہا جائے گا۔ اسلام کے دور اول کی تاریخ میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت پہلی قسم کی مثال ہے، اور حدیبیہ دوسری قسم کی مثال، جس نے اہل ایمان کے عسکری رول کو دعوتی رول میں تبدیل کر دیا۔
اسلام کے ظہور کے بعد مسلمانوں کو یہ موقع ملا کہ انھوں نے بڑی بڑی سلطنتیں قائم کر لیں ۔ اس کو مسلم ایمپائر کا دور کہا جا سکتا ہے۔ یہ دور تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ اٹھارھویں صدی کے آخر میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔ چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتیں اب بھی باقی تھیں، لیکن مسلم ایمپائر باقی نہ رہا۔ یہ واقعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی کی سازش یا دشمنی کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ وہ فطرت کے ایک اصول کے تحت پیش آیا اور وہ ٹرانسپلانٹیشن کا اصول تھا۔ اس کے تحت ایسے حالات پیدا ہوئے جس کا تقاضا تھا کہ مسلمان اپنے رول کو بدلیں ۔ اٹھارھویں صدی تک انھوں نے سیاسی رول ادا کیا تھا، اب نئے حالات میں اُن کو دعوتی رول ادا کرنا تھا۔