Al-Risala · May 2013 · page

یہ اسلام نہیں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۳

لازم ہے کہ وہ نہ بھلانے والے کلچر کو چھوڑ کر ، بھلانے والا کلچر اختیار کریں ، ورنہ وہ قیامت تک اس کے تباہ کن نتائج بھگتے رہیں گے۔ کوئی بھی دوسری تدبیر اس معاملے میں اُن کو نجات دینے والی نہیں۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے دوران مسلمانوں کے اندر بڑی بڑی سیاسی تحریکیں اٹھیں۔ ان تمام تحریکوں کا نشانہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر صرف ایک تھا کھوئے ہوئے مسلم ایمپائر کا دوبارہ قیام۔ مگر دوسوسال کی دھواں دھار سرگرمیوں کے باوجود یہ نشانہ حاصل نہیں ہوا۔ ان تمام سیاسی تحریکوں کے مسلم رہنما آخر کار مایوسی میں مبتلا ہوئے اور مایوسی میں اس دنیا سے چلے گئے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ کوئی سیاسی ایمپائر، خواہ وہ مسلم ایمپائر ہو یا غیر مسلم ایمپائر، حالات کے تحت قائم ہوتا ہے۔ یہ قدیم زمانے کا ایک ظاہر ہ تھا کہ مختلف قوموں نے اپنے ایمپائر قائم کیے۔ انھیں زمانی حالات کی بنا پر مسلمانوں کو بھی یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنا ایمپائر قائم کریں۔ مگر اٹھارھویں صدی میں یہ زمانی حالات ختم ہوگئے ۔ اب کسی قوم کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ قدیم طرز کا سیاسی ایمپائر قائم کرے۔ مسلمانوں کی سیاسی تحریکوں کو جو ناکامی ہوئی ، وہ کسی دشمن کی’’ سازش‘‘ کی بنا پر نہ تھی، وہ صرف اس لیے تھی کہ موجودہ زمانے میں اٹھنے والے مسلم رہنما زمانے کی تبدیلی سے بے خبر تھے۔ اس بنا پر وہ ایسی سیاست کے چیمپئن بنے رہے جو نئے دور میں سرے سے ممکن ہی نہ تھی۔

اب جو لوگ مسلم تحریکوں کی ناکامی کو دشمن کی’’ سازش‘‘ قرار دے کر مضامین اور کتابیں لکھ رہے ہیں، وہ صرف اپنی بے دانشی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ اکیسویں صدی میں تمام دنیا کے مسلمانوں کو صرف ایک ہی کام کرنا ہے، یہ کہ وہ ماضی میں کی ہوئی اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور یہ عہد کریں کہ اب دوبارہ وہ ایسی غلطی نہ کریں گے، نہ فکری اعتبار سے اور نہ عملی اعتبار سے۔ موجودہ دنیا میں غلطی کرنا ایک امر فطری ہے۔ کوئی بھی شخص غلطی کر سکتا ہے، لیکن غلطی کے بعد جب موافق نتیجہ نہ نکلے تو یہ بلا شبہ دیوانگی ہوگی کہ اپنی ناکامیوں کا سبب دشمنوں کی سازش کو قرار دے دیا جائے۔ غلطی کرنا قابل معافی ہے، لیکن غلطی کا اعتراف نہ کرنا ہر گز قابل معافی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2013 All issues

Printed page