Al-Risala · May 2013 · page

مشرق اور مغرب

الرسالہ، مئی ۲۰۱۳

مشرق اور مغرب

ایک مشہور مسلم لیڈر اگست 2012 میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے ترکی گئے۔ وہاں انھوں نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ ترکی نے مغرب کے بجائے مشرق کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے :

It is very good that Turkey has started looking East instead of West. انسانیت کو مشرق اور مغرب میں تقسیم کرنے کا ذہن ایک قومی ذہن ہے۔ ایک قومی لیڈر اس قسم کے الفاظ بول سکتا ہے، لیکن ایک مسلمان ایسے الفاظ بولنے کا تحمل نہیں کر سکتا، کیوں کہ اسلام ایک قومیت نہیں، بلکہ وہ ایک انسانی مشن ہے۔ رُڈیارڈ کپلنگ (Rudyard Kipling) ایک برٹش شاعر اور اسٹوری رائٹر تھا۔ وہ 1865 میں ممبئی میں پیدا ہوا اور 1936 میں اس کی وفات ہوئی۔ رُڈیارڈ کپلنگ نے کہا تھا کہ مغرب، مغرب ہے اور مشرق، مشرق ۔ دونوں کبھی ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے : West is West and East is East, and the twain shall never meet. اس قسم کی سوچ سرتا سر غیر داعیانہ سوچ ہے۔ مومن کا مشن عالمی دعوت کا مشن ہے۔ یہ ذہن فطری طور پر مومن کے اندر آفاقیت پیدا کرتا ہے۔ اس کا نشانہ پوری انسانیت ہوتی ہے۔ وہ قومی تعصب سے یکسر خالی ہوتا ہے۔ وہ سارے انسانوں کا خیر خواہ ہوتا ہے۔ وہ سارے انسانوں کو ایک فیملی کی طرح اپنا سمجھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن ’’ہم اور وہ‘‘ (We and They) کے تصور سے نا آشنا ہوتا ہے۔ اس کے بجائے مومن کا تصور ’’ہم اور ہم‘‘ (We and We) کے تصور پر مبنی ہوتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تمام انسانوں کا رب ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو مومن کا ذہن بناتا ہے۔ مومن اپنے عقیدے کے اعتبار سے، اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ انسان کو مشرق اور مغرب میں بانٹے۔ مومن کی نظر میں ہر ایک اس کا ہے اور وہ ہر ایک کا۔ یہی وہ تصور ہے جو مومن کی اخلاقیات کی تشکیل کرتا ہے اور یہی وہ آفاقی تصور ہے جو مومن کے اندر یہ عالمی خیر خواہی پیدا کرتا ہے کہ وہ تمام دنیا والوں کی ہدایت کا حریص بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2013 All issues

Printed page