تاریخی سبق
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
تاریخی سبق
سیکولر علما کے لیے عظیم انقلاب (Great Flood) یا ارارات کے پہاڑ کے اوپر کشتی کی دریافت محض تاریخ کا ایک سبجکٹ ہے، مگر قرآن کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ تمام انسانوں کے لیے بہت بڑے سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ حضرت نوح کے زمانے میں جو طوفان آیا تھا، وہ بعد کو آنے والے زیادہ بڑے طوفان کے لیے ایک پیشگی خبر ہے۔ یہ دریافت گویا ایک وارننگ ہے کہ لوگ متنبہ ہو جائیں اور اُس وقت کے آنے سے پہلے وہ اس کے لیے ضروری تیاری کر لیں۔
حضرت نوح دور تاریخ سے پہلے کے پیغمبر ہیں، اس لیے مدوّن تاریخ میں اُن کا حوالہ موجود نہیں۔ مگر قرآن کا بیان ہے کہ نوح کی کشتی کو خدا باقی رکھے گا، تا کہ وہ بعد والوں کے لیے نشانی ثابت ہو (54:15)۔ عظیم طوفان اور ارارات پہاڑ کے اوپر کشتی کی دریافت قرآن کے اس بیان کی ایک تاریخی تصدیق (hostorical verification) کی حیثیت رکھتی ہے۔
سبق کا پہلو
ایک طویل روایت میں فرشتے کی زبان سے یہ الفاظ آئے ہیں: محمد فرق بین الناس (صحیح البخاري، رقم الحديث: 6852) فرق کا لفظی مطلب ہے: الفصل بين الشيئين - (دو چیزوں کے درمیان فرق کرنا)۔ یعنی محمد، انسانوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔ اس حدیث رسول کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ایسا مشن جاری ہوگا جو صالح اور غیر صالح افراد کو ایک دوسرے سے جدا کر دے، تا کہ اللہ ایک گروہ کے لیے انعام کا فیصلہ فرمائے اور دوسرے گروہ کے لیے سزا کا فیصلہ۔
یہ بات صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص نہیں ہے، یہی معاملہ تمام پیغمبروں کا ہے۔ خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے، وہ سب اسی مقصد کے لیے آئے، تا کہ ان کے ذریعے ایک ایسی تحریک چلائی جائے جو انسانوں کو ایک دوسرے سے چھانٹ دے، صالح افراد الگ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues