Al-Risala · January 2013 · page

سبق کا پہلو

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

ہو جائیں اور غیر صالح افراد الگ، تاکہ اس کے بعد ایک معلوم حقیقت کے طور پر لوگوں کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ کر دیا جائے۔

قدیم زمانے میں جو انبیا آئے، اُن میں سے کم از کم دو ایسے پیغمبر ہیں جنھوں نے اس معاملے میں ایک تاریخی شہادت (historical evidence) چھوڑی جو لوگوں کے لیے مستقل طور پر منصوبہ الہی کے بارے میں تاریخی یاد دہانی (historical reminder) کا کام کرتی رہے۔ اس معاملے میں ایک تاریخی مثال وہ ہے جس کا تعلق حضرت موسی سے ہے۔ حضرت موسیٰ نے قدیم مصر میں اپنا دعوتی کام انجام دیا۔ اس کے نتیجے میں آخر کار وہ وقت آیا، جب کہ دو گروہ ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ ایک، بنی اسرائیل کا گروہ، جس نے حضرت موسیٰ کے پیغام کو قبول کیا اور دوسرے، فرعون اور اس کے ساتھی، جنھوں نے حضرت موسیٰ کے پیغام کو رد کر دیا۔ اس کے بعد قانون الہی کے مطابق، ایسا ہوا کہ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھی الگ کر کے بچا لئے گئے، اور فرعون اور اس کے ساتھی سمندر میں غرق کردئے گئے۔

اس معاملے کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب آخری وقت آ گیا اور فرعون غرق ہونے لگا، اُس وقت اللہ تعالی نے فرمایا: فاليو من نجيـك ببدنك لتكون لمن خـلـفـك آية (92:10) یعنی آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قول پورا ہوا اور حضرت موسیٰ کے ہم عصر فرعون کی لاش کو حنوط کاری (mummification) کے ذریعے اہرام مصر میں محفوظ کر دیا گیا۔ فرعون کا یہ جسم اہرام مصر میں موجود تھا۔ انیسویں صدی کے آخر میں کچھ مغربی ماہرین نے اس کو نکالا اور کاربن ڈیٹنگ (carbon datinhg) کے ذریعے اس کی تاریخ معلوم کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جسم اُسی فرعون کا ہے جو حضرت موسیٰ کا معاصر (contemporary) تھا۔

فرعون کے جسم کا اس طرح محفوظ رہنا کوئی سادہ بات نہیں، وہ ایک تاریخی واقعے کی علامتی مثال ہے۔ فرعون کا یہ جسم جو قاہرہ (مصر) کے میوزیم میں محفوظ ہے، وہ اپنی خاموش زبان میں یہ بتا رہا ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page