خاتمہ کلام
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
طرح کھل چکے ہیں۔ اب ہر اعتبار سے، وہ وسائل اور مواقع حاصل ہو چکے ہیں، جب کہ کسی رکاوٹ کے بغیر فکری سطح پر اللہ کے دین کا عالمی اظہار اپنی مطلوب صورت میں کیا جاسکے۔ مگر اسلام کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ ہے کہ اس دور میں جو بڑے بڑے مسلم ذہن پیدا ہوئے، وہ اس واقعے سے بالکل بے خبر رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اس دور میں پیدا شدہ عظیم مواقع کو استعمال بھی نہ کر سکے۔ اس المیہ کا سبب بنیادی طور پر صرف ایک تھا، اور وہ ایک اتفاقی مطابقت (coincidence) ہے۔ اس اتفاقی مطابقت کا یہ نتیجہ تھا کہ تاریخ کا عظیم ترین امکان غیر استعمال شدہ امکان (unavailed opportunity) بن کر رہ گیا۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مذکورہ ابراہیمی عمل کی تکمیل ہوئی تو یہ اٹھارھویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے آغاز کا زمانہ تھا۔ عین اُس زمانے میں ایک حادثہ پیش آ گیا ۔ وہ حادثہ یہ تھا کہ اِسی زمانے میں مغربی قوموں نے بڑی بڑی مسلم سلطنتوں کو توڑ دیا اور پوری مسلم دنیا میں اپنا سیاسی اور تہذیبی دبدبہ قائم کر لیا۔ یہ حادثہ مسلمانوں کی قومی نفسیات کے لیے ایک ایٹمی دھماکے سے بھی زیادہ بڑے دھماکے کی حیثیت رکھتا تھا۔ چناں چہ اس دور کے تمام مسلمان، غالباً کسی استثناء کے بغیر، شدید طور پر منفی رد عمل کا شکار ہو گئے۔ وہ مغربی قوموں سے نفرت کرنے لگے۔ انھوں نے مغربی قوموں کے خلاف فکری یا عملی جنگ چھیڑ دی۔ یہ رد عمل اتنا شدید تھا کہ مغربی قوموں کو نقصان پہنچانے کے لیے وہ خودکش بم باری (suicide bombing) کو بھی اپنے لیے جائز سمجھنے لگے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں پیدا ہونے والا مسلم لٹریچر، تقریباً یہ سب کا سب، اِسی نفرت کی نفسیات سے بھرا ہوا ہے۔ اِس لٹریچر کے مطابق، موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا جو ذہن بنا، وہ یہ تھا گویا کہ ساری مغربی دنیا صرف ایک کام میں مشغول ہے— مسلمانوں کے خلاف سازش اور دشمنی۔ اس معاملے کی ایک علامتی مثال ایک عرب عالم کی کتاب ہے، جس کا ٹائٹل یہ ہے: أجنحة المكر الثلاثة وخوافيها: التبشير، الإستشراق، الإستعمار (صفحات: 776) عبد الرحمن حسن حبنكة الميداني (دار القلم، دمشق: 2000)