خاتمہ کلام
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
لوگوں کی رائے بدل نہ جائے اور سماجی حالات کا یہ تقاضا ہو کہ اقتدار کی زمام کچھ دوسرے لوگوں کے حوالے کی جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: کما تکونون ؛ كذلك يؤمر عليكم (البيهقي، رقم الحديث: 7391) یعنی جیسے تم ہوگے، ویسے تمھارے حکمراں ہوں گے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ حکمراں کا تعین کسی مخصوص عقیدے کی بنیاد پر نہیں ہوگا، بلکہ اس کا تعین لوگوں کی رائے (vote) کے ذریعے کیا جائے گا۔
یہ ایک قسم کے سماجی بندوبست (social settlement) کا معاملہ ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ زندگی کے دونوں شعبوں (سیاسی اور غیر سیاسی) میں امن کا قیام ممکن ہو جاتا ہے۔ عقیدہ اور عبادت اور دعوت کے میدان میں لوگوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ پر امن طور پر اپنی تمام سرگرمیوں کو جاری رکھیں، وہ اپنے حق میں مواقع کا بھر پور استعمال کریں۔ دوسری طرف ، سماج کے ہر گروہ کو یہ موقع حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ سماج کے اندر اپنے افکار کی پر امن اشاعت کر سکے اور پھر اگلے الیکشن کے موقع پر، حسب حالات، وہ اپنی پرامن کوششوں کا فائدہ اٹھائے۔ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے سماجی بندوبست کا اس سے بہتر کوئی نظام ممکن نہیں۔
خاتمہ کلام
جیسا کہ عرض کیا گیا، اللہ تعالی کا یہ منصوبہ تھا کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کیا جائے جس کے نتیجے میں سیاست کے جبری ماڈل (despotic model) کا خاتمہ ہوجائے اور اس کے بجائے سیاست کا جمہوری ماڈل (democratic model) عمومی طور پر رائج ہوجائے۔ اس مطلوب ماڈل کا ایک ابتدائی نمونہ (prototype) حضرت یوسف کے ذریعہ قدیم مصر میں محدود طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اسی کے ساتھ حضرت ابراہیم کے ذریعے ایک وسیع تر عمل جاری کیا گیا جو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اپنے منتہا تک پہنچا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی مذکورہ ابراہیمی عمل کی تکمیل کی صدی ہے۔ اب ہم اکیسویں صدی میں ہیں اور یہ عمل اب اس حد تک مکمل ہو چکا ہے کہ آج تمام مواقع دعوت الی اللہ کے حق میں پوری