خدا اور پیغمبر
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
خدا اور پیغمبر
پاکستان کے قدرت اللہ شہاب (وفات: 1986) نے اپنی ضخیم کتاب ”شہاب نامہ“ میں اپنے زمانہ طالب علمی کا ایک تجربہ بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
”آبادی سے دور ایک مخبوط الحواس، مجنون صفت، مجذوب نما شخص ویرانے میں بیٹھا رہتا تھا۔ اور ہمہ وقت الا اللہ، الا اللہ کی ضربیں لگاتا رہتا تھا۔ میں اور میرا ایک ہم عمر ہندو دوست اکثر اس کے پاس جاکر اس کا منھ چڑایا کرتے اور اس کے ذکر کی نقلیں اتارا کرتے تھے۔ میرا ہندو دوست الا اللہ کے وزن پر مہمل، مضحکہ خیز اور کبھی کبھی فحش قافیے جوڑ کر مذاق بھی اڑایا کرتا تھا۔ مجذوب نے ہمیں بار بار ڈانٹا کہ ہم اللہ کے نام کی بے حرمتی نہ کریں، لیکن ہم باز نہ آئے۔ ایک روز ہم دونوں اسی مشغلے میں مصروف تھے کہ ایک شخص اُدھر سے چند نعتيہ اشعار الاپتا ہوا گزرا، جس کا ایک مصرعہ یہ تھا:
محمد نہ ہوتے، تو دنیا نہ ہوتی
یہ مصرع سن کر میرا ہندو دوست زور زور سے ہنسنے لگا۔ اور اس نے اسم محمد کی شان میں کچھ گستاخیاں بھی کیں۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، لپک کر ایک پتھر اٹھایا، اور اسے گھما کر ہندو لڑکے کے منہ پر ایسے زور سے مارا کہ اس کا سامنے کا آدھا دانت ٹوٹ گیا۔ لاشعور کی وہ کون سی لہر تھی جو اللہ کے ساتھ مذاق پر تو خاموش رہتی تھی، لیکن رسول اللہ کے ساتھ گستاخی پر آناً فاناً جوش میں آگئی تھی؟ کوئی شخص رسول خدا کے متعلق بدزبانی کرے تو اکثر لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی تک لگا بیٹھتے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں، بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسول پر اپنی جان عزیز کو قربان کر دیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد و تقویٰ میں ممتاز تھے۔