خدا کا عقیدہ
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
ایک عامی مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شان رسالت کے حق میں مضطرب ہوتا ہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے۔ خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ (شہاب نامہ، لاہور، 1988، صفحہ 17-16)
قدرت اللہ شہاب نے جو بات کہی ہے، وہ بلاشبہ ایک واقعہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام مسلمان، غالباً کسی استثنا کے بغیر، اسی نفسیات کا شکار ہیں۔ خدا کی بے حرمتی ہو تو مسلمانوں کے جذبات نہیں بھڑکتے، لیکن رسول کی بے حرمتی ہو تو تمام مسلمان شدید طور پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ فتوے اور بیانات سے لے کر عوامی مظاہرے تک وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اس معاملے میں ان کی جذباتیت کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ تشدد اور توڑ پھوڑ تک کو اپنے لیے جائز سمجھ لیتے ہیں۔ اس معاملے کی مثالیں بار بار میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ اس کی ایک مثال وہ ہے جو ماہ نامہ الرسالہ (دسمبر 2012، صفحہ (25) میں دیکھی جاسکتی ہے۔
خدا اور رسول کے درمیان اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کے سبب کی تحقیق کیجئے تو اس کے پیچھے مسلمانوں کی ایک ایسی کمزوری کی دریافت ہوتی ہے جو صرف ایک کمزوری نہیں، بلکہ وہ یقینی طور پر ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔
خدا کا عقیدہ
خدا کے خلاف لکھنے اور بولنے والے پہلے بھی دنیا میں پائے جاتے تھے، لیکن موجودہ زمانے میں ایسے لوگوں کی تعداد ہزاروں گنا زیادہ بڑھ گئی ہے۔ فریڈرک نطشے (Friedrich Nietzsche) مشہور جرمن فلسفی ہے۔ 56 سال کی عمر میں 1900 میں اس کی وفات ہوئی ۔ جدید فلسفے میں اس کا بہت بڑا درجہ مانا جاتا ہے۔ نطشے نے کھلے طور پر کہا تھا کہ - خدا مر چکا ہے: God is dead. (EB. 13/79)
البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) دور جدید کا مشہور ترین جرمن سائنس داں ہے۔