نفسیاتی تجزیہ
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
شُرَکَاۗىِٕہِمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ (6:136) یعنی خدا نے جو کھیتی اور چوپائے پیدا کیے ہیں، اُس میں سے اُنھوں نے خدا کا کچھ حصہ مقرر کیا ہے۔ پس، اپنے گمان کے مطابق، وہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کا ہے اور یہ حصہ ہمارے شریکوں کا۔ پھر جو حصہ اُن کے شریکوں کا ہوتا ہے، وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو حصہ اللہ کے لیے ہے، وہ اُن کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے۔ کیسا برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ لوگ اللہ اور اپنے شرکا کے درمیان جو تفریق کرتے تھے، وہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس کا سبب دراصل اُن کے غلط مفروضات تھے۔ انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ بنا رکھا تھا کہ اُن کو دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ ان کے شرکا کی برکت سے ملتا ہے۔ اس خود ساختہ عقیدے کی بنا پر وہ سمجھتے تھے کہ اصل مسئلہ شرکا کو خوش رکھنے کا ہے۔ اگر شرکا خوش رہیں گے تو ان کے سارے معاملات درست رہیں گے۔ اس عقیدے کی بنا پر وہ شرکا کے حصے کو تو پورا کر دیتے تھے اور خدا کا حصہ کم کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ ٹھیک یہی معاملہ مسلمانوں کا ایک اور اعتبار سے ہے۔ صحابہ اور تابعین کے بعد مسلمانوں میں جو ذہن بنا، اُس ذہن کے تحت مسلمانوں نے خود ساختہ طور پر یہ کیا کہ انھوں نے اپنے پیغمبر کو سب سے بڑا درجہ دے دیا۔ انھوں نے اپنے پیغمبر کا درجہ اتنا بڑھایا کہ خدا اُن کے لیے عملاً صرف ایک رسمی عقیدہ بن کر رہ گیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ دورِ تصنیف میں مسلمانوں کے لکھنے والوں نے پیغمبر کی عظمت پر ہزاروں کتابیں لکھیں، لیکن وہ اللہ کی عظمت پر کوئی قابل ذکر کتاب نہ لکھ سکے۔ بعد کے زمانے میں یہ ہوا کہ مسلمانوں کے پاس جتنے بڑے بڑے القاب تھے، وہ سب انھوں نے اپنے پیغمبر کو دے دیے۔ مثلاً سرور عالم، شہنشاہ کونین، تاج دار دو عالم، سید الکونین، وغیرہ۔ اس قسم کے بڑے بڑے القاب جب پیغمبر کو دے دیے جائیں تو اس کے بعد انسانی الفاظ میں، اللہ کو دینے کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ اللہ کا تصور ایک باعظمت تصور کی حیثیت سے شعوری طور پر مسلمانوں کے ذہن میں باقی نہیں رہا۔ یہی وہ ذہن ہے جس کی نمائندگی ایک مسلم شاعر نے ان الفاظ میں کی ہے:
اللہ کے پلے میں وحدت کے سوا کیا ہے جو کچھ ہمیں لینا ہے، لے لیں گے محمد سے