Al-Risala · May 2013 · page

خدا اور مسلمان

الرسالہ، مئی ۲۰۱۳

خدا اور مسلمان

یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ علم اور کلچر دونوں اعتبار سے، ایک خدا نا شناس زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ طبقے کا کیس صرف یہ نہیں ہے کہ وہ خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا، بلکہ وہ کھلے طور پر خدا کے عقیدے کا استہزا کرتا ہے۔ وہ کھلے طور پر اس مذموم روش میں مبتلا ہے جس کو بیان کرنے کے لیے ’’خدا کی شان میں گستاخی‘‘ کا لفظ بھی ہلکا ہے۔ اس کو بیان کرنے کے لیے کوئی شدید تر لفظ وضع کرنا پڑے گا۔ یہ سب کچھ کسی ایک مقام پر نہیں، بلکہ ساری دنیا میں ہو رہا ہے۔ موجودہ زمانے کی لائبریریوں میں ایسی کتابیں کثرت سے موجود ہیں جو خدا کے بارے میں اُس سے بھی زیادہ قابل اعتراض ہیں جس کی مثال سلمان رشدی کی کتاب سیٹنک ورسیس (The Satanic Verses) میں پائی جاتی ہے۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ اس سے کم تر درجے کے کیس میں مسلمانوں کی حمیت رسول آخری حد تک بھڑک اٹھتی ہے، جب کہ خدا کے معاملے میں ان کی حمیت نہیں بھڑکتی۔ مثال کے طور پر ستمبر۔ نومبر 2012 میں دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر امریکی فلم (Innocence of Muslims) کے خلاف احتجاج (protest) کیا۔ یہ احتجاج مصر سے لے کر آسٹریلیا تک، بہت سے شہروں میں کیا گیا۔ اس میں ہر جگہ مسلمانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ کئی جگہ اس احتجاج نے تشدد اور توڑ پھوڑ کی صورت اختیار کرلی۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اس احتجاج میں تقریباً 80 لوگ مارے گئے اور ایک سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ اس درمیان پراپرٹی کا جو نقصان ہوا، وہ اس کے علاوہ ہے۔

نفسیاتی تجزیہ

یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیچھے مسلمانوں کی ایک مجرمانہ نفسیات پائی جاتی ہے۔ یہ وہی نفسیات ہے جو مشرکین کے بارے میں قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَكَائِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى

‹ Previous page Next page › Contents of May 2013 All issues

Printed page