Al-Risala · May 2013 · page

کامیابی کس کے لیے

الرسالہ، مئی ۲۰۱۳

سوال و جواب سوال آپ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہم کو امتحان کے لیے رکھا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون صبر واستقامت کے اس امتحان میں کامیاب ہوتا ہے۔ آخرت کی جنت اسی کامیاب ہونے والے انسان کے لیے ہے۔ سوال یہ ہے کہ خدا نے آخرت کی کامیابی کے لیے امتحان کا یہ طریقہ کیوں رکھا۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (مکرم حسین، نئی دہلی)

جواب

یہ بات درست ہے کہ موجودہ دنیا میں ہمارے لیے ایک ہی آپشن (option) ہے اور وہ ہے ــ صبر واستقامت اور یک طرفہ ایڈجسٹ منٹ کا آپشن۔ یہی آپشن، اللہ کے تخلیقی نقشہ کے مطابق ہے۔ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لیے اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ سرے سے ممکن ہی نہیں۔ دوسرا طریقہ خودکشی کا طریقہ ہے، نہ کہ کامیابی کا طریقہ۔

اب سوال یہ ہے کہ ہمارے خالق نے ہمارے لیے یہ طریقہ کیوں مقرر کیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اسی طریقے کے ذریعے آدمی کے اندر ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔ خالق نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، مگر یہ صلاحیتیں بالقوہ (potential) کے روپ میں ہیں، یعنی امکان کے روپ میں، نہ کہ واقعہ کے روپ میں۔ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کی شخصیت کے اندر چھپی ہوئی فطری صلاحیتوں کو واقعہ بنانے کا طریقہ صرف ایک ہے اور وہ ہے چیلنج (challenge)۔ چیلنج آدمی کے سوئے ہوئے ذہن کو جگاتا ہے۔ چیلنج آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچ سکے۔ چیلنج اس بات کا ذریعہ ہے کہ آدمی منفی تجربات میں مثبت آئٹم کو دریافت کرے۔ آدمی ابتدائی طور پر ایک ناپختہ (immature) مخلوق ہے۔ یہ صرف چیلنج ہے جو آدمی کو پختہ (mature) بناتا ہے۔ چیلنج آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو انفولڈ (unfold) کرے۔

عام طور پر عورتوں اور مردوں کا حال یہ ہے کہ چیلنج پیش آنے کی صورت میں وہ منفی ردعمل

‹ Previous page Next page › Contents of May 2013 All issues

Printed page