کامیابی کس کے لیے
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
(negative reaction) کا طریقہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس طرح کے مواقع پر منفی ردِ عمل، ڈی ریلیمنٹ (derailment) کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کسی عورت یا مرد کی زندگی غلط رخ پر چل پڑتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ اسی میں کنڈیشنڈ (conditioned) ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اسی منفی مزاج میں جیتے ہیں اور اسی مزاج میں مرجاتے ہیں۔ یہ کسی عورت یا مرد کی بدترین ناکامی ہے۔ اس دنیا میں ہر شخص سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اندر ایک مثبت شخصیت (positive personality) کی تشکیل کرے۔ مگر انسان اللہ کے تخلیقی منصوبے کو نہ سمجھنے کی بنا پر یہ کرتا ہے کہ وہ چیلنج کو ایک برائی (evil) سمجھ لیتا ہے۔ وہ دنیا سے اُس چیز کو حاصل کیے بغیر چلا جاتا ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے خالق نے اُس کو اس دنیا میں بھیجا تھا۔ سوال 1 - ہمارے ملک (پاکستان) اور عموماً پوری دنیا میں ہر مرتبہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ایک مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ کل روزہ ہوگا یا نہیں۔ یہی صورتِ حال عید کے چاند پر بھی پیدا ہوتی ہے۔ اور اکثر ملک کے ایک حصہ میں روزہ رکھا جاتا ہے جب کہ دوسرے حصہ میں عید منائی جارہی ہوتی ہے (یہی صورتِ حال تقریباً پوری مسلم اور غیر مسلم دنیا میں بھی ہوتی ہے) سوال یہ ہے کہ اگر روزے کا تعلق رمضان کے مہینے کی آمد سے ہے تو پھر دنیا میں ہر جگہ ایک ساتھ روزہ کیوں نہیں۔ اس سوال کا براہِ راست تعلق مذہب اور سائنس دونوں سے ہے۔ آپ ایک علمی بصیرت رکھنے والے اور جدید سائنسی اسلوب میں بات کرنے والے عالم دین ہیں۔ آپ سے التماس ہے کہ اس مسئلے کے بارے میں قرآن ، احادیث اور رویتِ ہلال کی سائنس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کی وجوہات اور اس کا حل تفصیل سے بتائیں۔
2 - مغربی دنیا کی چوٹی کے سائنس داں مثلاً آئن سٹائن اور فلاسفر مثلاً برٹرینڈ رسل وغیرہ حقیقی علم تک رسائی کیوں حاصل نہ کر سکے، حالاں کہ انھوں نے مذہب اور سائنس کا براہِ راست مطالعہ کیا تھا۔ 3 - آپ نے اپنی کتاب ’’تجدیدِ دین‘‘ کے شروع میں لکھا ہے کہ ’’فقہ‘‘ کا لفظ عباسی دور کی