کامیابی کس کے لیے
الرسالہ، مئی ۲۰۱۳
(Navin Ramgoolam) کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ اسٹال کا انتظام مسٹر ممتاز راجہ نے سنبھالا۔ 21- نیوز ایکسپریس ٹی وی (نوئیڈا) کے نمائندہ مسٹر راشد احمد خان نے 11 مارچ 2013 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا ۔ انٹرویو کا موضوع یہ تھا- مائنارٹی افیرس(Minority Affairs) 22- انڈیا اور انڈیا سے باہر کے دوسرے مقامات کی طرح سہارن پور (یوپی) میں ہمارے ساتھی مسلسل طورپر دعوہ ورک کررہے ہیں۔ مثلاً سہارن پور کے تین ٹی وی چینل پر ہمارے ساتھیوں نے ایک اشتہار دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اُن کے مقامی سنٹر(پیس (پیس ہال) سے اردو، ہندی اور انگریزی ترجمہ قرآن مفت حاصل کیا جائے۔ اس کی وجہ سے روزانہ لوگ رابطہ کر کے یہاں سے قرآن کے تراجم حاصل کر رہے ہیں۔
23- دعوتی لٹریچر اور الرسالہ مشن سے متعلق قارئین کے چند تاثرات یہاں درج کیے جاتے ہیں: الرسالہ کے مطالعہ سے میری ذاتی زندگی میں بے حد مثبت تبدیلی آئی ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ الرسالہ نے مجھے زندگی کی حقیقتوں کو پہچاننے اور ان کا حوصلہ مندی کے ساتھ سامنا کرنے کی سمجھ دی ہے۔ میں نے ہمیشہ اپنے اطراف خواتین کو ایک دوسرے کی برائی، غیبت، چغلی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے سطحی مشغلوں میں مصروف دیکھا ہے۔ خواہ وہ گھریلو خواتین ہوں یا تعلیم یافتہ اور working women - الرسالہ کے مطالعہ سے الحمد للہ میں اس قابل ہوئی کہ میری فکری سطح ان ساری باتوں سے اوپر اٹھ چکی ہے۔ ایک عورت کا مقصد حیات کیا ہے، یہ میں نے الرسالہ کی تحریروں میں پایا ہے۔ الرسالہ نے مجھے یہ سمجھ دی کہ کسی کے منفی عمل کا جواب دے کر ہم اللہ کی نصرت سے محروم ہو جاتے ہیں، کیوں کہ جب ہم ردعمل نہ کریں تو اللہ کے فرشتے ہماری طرف سے اس کا جواب دیتے ہیں، اور بلا شبہ اس سے بڑی کوئی بات نہیں ہوسکتی ۔ الرسالہ مشن ایک خاتون خانہ کے لیے بھی اتنا ہی مفید ہے جتنا کہ ایک مرد کے لیے۔ ازدواجی زندگی کے لیے مولانا نے ایک نصیحت کی تھی، وہ ہے یک طرفہ ایڈ جسٹ مینٹ۔ یہ صد فی صحیح فارمولا ہے ایک اجنبی ماحول نیز اجنبی افراد کے دل میں جگہ بنانے کا۔ الرسالہ کے مضامین اور نکاح اور کامیاب ازدواجی زندگی‘‘ (خاندانی زندگی) پڑھنے سے الحمد للہ میں تیار ذہن کے ساتھ ازدواجی زندگی شروع کر سکی ہوں، ورنہ منفی ذہنیت اور شکایت میری ذات کا حصہ تھی ۔ ایسا نہیں ہے کہ ناخوش گوار بات پیش نہ آتی ہو، زندگی میں ہر دن ایک ناموافق اور ناخوش گوار بات پیش آتی ہے، لیکن الرسالہ کی تربیت نے مجھے ان مسائل کو چیلنج سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ الرسالہ نے حقیقت پسندانہ انداز میں اجتماعی زندگی گزارنے کے اصول سکھائے ہیں۔ ماں باپ، بھائی بہن کے برتاؤ سے لے کر سسرالی رشتہ دار، شوہر، نیز بچوں کی تربیت وغیرہ تک ہر موڑ پر الرسالہ کے مضامین بے حد کار آمد ہیں۔ ضرورت صرف سنجیدگی کے ساتھ اور کھلے ذہن سے پڑھنے کی اور ان اصولوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں اختیار کرنے کی ہے۔ اسی کے ساتھ خود احتسابی کی اشد ضرورت ہے۔ اللہ کے فضل سے میں نے یہ طے کیا ہے کہ میں اپنے گھر کو ”بگاڑ کا کارخانہ بننے نہیں دوں گی، ان شاء اللہ۔ (اے ایم بشری، حیدر آباد، انڈیا)