Al-Risala · June 2013 · page

حاملِ کتاب قوم

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

حاملِ کتاب قوم

قرآن میں قدیم اہلِ کتاب (یہود) کے حوالے سے فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا (62:5) یعنی جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا، پھر انھوں نے اس کو نہیں اٹھایا، اُن کی مثال اُس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ یہ تمثیل صرف سابق اہلِ کتاب (یہود) کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ وہ ماضی کے تجربے کی صورت میں حال کے اہلِ کتاب (امتِ مسلمہ) کے بارے میں بھی ہے۔ قرآن میں یہ مثال اس لیے دی گئی ہے، تاکہ امتِ مسلمہ کے لوگ اُس سے سبق لیں اور اپنے آپ کو اس کے برے انجام سے بچائیں۔

قرآن کی اس آیت میں دراصل امت کے دو دور بتائے گئے ہیں۔ زوال سے پہلے کی حالت، اور زوال کے بعد کی حالت۔ اَلَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ سے مراد زوال سے پہلے کی حالت ہے، یعنی وہ ابتدائی حالت جب کہ امت کے اندر دین زندہ ہوتا ہے، وہ مطلوب انداز میں دین پر قائم ہوتی ہے۔ یہ وہ ابتدائی دور ہے جس کو حدیث میں قرونِ ثلاثہ کہا گیا ہے۔ حدیث کے مطابق ، امت کی یہ حالت ابتدائی تین نسلوں تک ہوتی ہے۔ اس کے بعد قانونِ فطرت کے مطابق، امت پر زوال آ جاتا ہے۔ اس بعد کے دور کو كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

اس زوال یافتہ دور میں امت بظاہر کتاب کی حامل بنی ہوئی ہوتی ہے، لیکن اب کتاب کی اصل روح اس کے اندر باقی نہیں ہوتی۔ اب اس کا معاملہ ایسے حیوان جیسا ہو جاتا ہے جس کی پیٹھ پر بظاہر کتابیں لدی ہوئی ہوں، لیکن یہ کتابیں اس کے شعور کا حصہ نہ ہوں۔ پہلے دور میں امتِ انسان کی سطح پر حاملِ کتاب ہوتی ہے اور دوسرے دور میں حیوان کی سطح پر حاملِ کتاب۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page