Al-Risala · June 2013 · page

موت کی یاد کا مثبت پہلو

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

موت کی یاد کا مثبت پہلو

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أكثروا ذكر هادم اللذات، الموت (الترمذي، رقم الحديث (2307) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھادینے والی ہے۔

اس حدیث میں 'ہادم' (ڈھا دینے والا) کا لفظ سلبی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایجابی معنی میں ہے، یعنی موت کی یاد صرف موت کی یاد نہیں، بلکہ اس کا ایک بہت بڑا مثبت پہلو ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کی تمام لذتیں مٹ جانے والی ہیں، اس لیے تم دنیا کی لذتوں کے بجائے، آخرت کی لذتوں کو اپنی سوچ کا مرکز بناؤ، کیوں کہ آخرت کی لذتیں ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں (فأثروا ما يبقى علی ما يفني)۔

انسان ایک لذت پسند مخلوق ہے۔ انسان ہر دور میں اپنی لذتوں کی تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ قدیم زمانے میں لذت کے سامان بہت محدود تھے۔ موجودہ زمانے میں لذت کے سامانوں کی کثرت ہو گئی ہے۔ اس اعتبار سے، موجودہ زمانے کو کنزیومرازم (consumerism) کا زمانہ کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں کنزیومرازم کا دور آیا تو انسان مزید اضافہ کے ساتھ اپنی لذتوں کی تسکین حاصل کرنے کی کوشش میں لگ گیا۔

مگر تاریخ کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس معاملے میں انسان کا کیس کامل محرومی کا کیس ہے، انسان نہ قدیم روایتی زمانے میں تسکین کا سامان حاصل کر سکا، اور نہ جدید کنزیومرازم کے زمانے میں۔ گویا اس دنیا میں طالب موجود ہے، مگر یہاں اس کا مطلوب موجود نہیں۔ جس آدمی کا شعور زندہ ہو، اس کے لیے موت اس بات کی یاد دہانی بن جائے گی کہ جس مطلوب کو میں قبل از موت دور میں نہ پاسکا، وہ مطلوب خالق کے پلان کے مطابق، موت کے بعد کے دور میں رکھ دیا گیا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے موت کا تصور اس کی زندگی کے کورس کو متعین کرنے والا بن جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page