دین کے بدلے دنیا
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
دین کے بدلے دنیا
قرآن میں یہود کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: وَلَا تَشْتَرُوا بِاٰیٰتِىْ ثَمَنًا قَلِيلًا (2:41) یعنی تم اللہ کی آیتوں کے بدلے ثمن قلیل مت خریدو۔ اس آیت میں ثمنِ قلیل سے مراد دنیا کے فائدے ہیں۔ اس کا مطلب ہے اللہ کے کلام کو دنیا کے مادی فائدے کے لیے استعمال کرنا۔ یہود نے اپنے دورِ زوال میں یہ کیا تھا کہ وہ اللہ کے کلام کو دنیوی فائدوں کے حصول کے لیے استعمال کرنے لگے۔ حدیث میں پیشین گوئی کی گئی تھی کہ مسلمان اپنے دورِ زوال میں یہود کا اتباع کریں گے (لتتبعن سنن من كان قبلكم شبر أبشبر وذراعاً بذراع)۔ یہود کا یہ اتباع موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً آپ مسلمانوں کی کسی بک مارکیٹ میں جائیے۔ وہاں آپ کو کثرت سے ایسی کتابیں ملیں گی جن میں ایسے وظائف اور عملیات بتائے گئے ہوں گے جن کے متعلق اُس میں یہ بشارت درج ہوگی کہ اس پر عمل کرنے سے آپ کو ہر قسم کے دنیوی فوائد حاصل ہو جائیں گے۔ مثلاً اس میں جامع تعویذ کا ایک نسخہ ان الفاظ میں لکھا ہوا ہوگا: بسم اللہ کا تعویذ ہر طرح کے بخار نیز تنگ دستی اور قرض وغیرہ جیسی ہر قسم کی پریشانی کے لیے مفید ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھ کر گلے یا دائیں ہاتھ کے بازو میں باندھنا یا ٹوپی میں رکھ کر پہننا چاہیے۔ اسی طرح اس میں ایک عمل ان الفاظ میں درج ہوگا کہ قرآن کی آیت: "نرفع درجات من نشاء وفوق كل ذی علم علیم" کو تین روز تک روزانہ سات ہزار مرتبہ پڑھے۔ اس کے بعد ملازمت کے لیے درخواست دے تو اس کی درخواست ضرور منظور ہوگی۔ اسی طرح اس میں لکھا ہوگا کہ یا حی یا قیوم ایک ہزار بار اور یا وہاب ایک ہزار بار پڑھے۔ اس سے مرتبہ بڑھے گا اور مال میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا، وغیرہ۔
یہی وہ روش ہے جس میں یہود اپنے دورِ زوال میں مبتلا ہوئے اور قرآن میں یہود کی اس روش کی مذمت کی گئی۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اپنے دورِ زوال میں ہیں۔ وہ بھی ٹھیک اُسی روش میں مبتلا ہو چکے ہیں جس میں یہود اپنے دورِ زوال میں مبتلا ہوئے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues