Al-Risala · January 2013 · page

سبق کا پہلو

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

پگھلنے سے سامنے آگئی۔ یہ واقعہ ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع پہاڑ کے اوپر پیش آیا۔ بیسویں صدی کے وسط تک اس پورے معاملے کو فرضی کہانی سمجھا جاتا تھا، مگر اب خالص تاریخی شواہد کی بنا پر یہ مان لیا گیا ہے کہ اس علاقے میں ایک ایسا بڑا سیلاب آیا تھا جو نہ اس سے پہلے کبھی آیا اور نہ اس کے بعد۔ یہاں اس سلسلے میں تفسیر ماجدی سے ایک حوالہ نقل کیا جاتا ہے: The story of Noachion deluge, so long dismissed as legendary, has at last come to be recognized as'hisotorical disaster for which material evidence has bee found in the soil of Ur). Woolly, ‘Abraham’, p. 170)

Archaeological evidence has established the reality of the Flood). Marston, ‘The Bible Comes Aline’, p. 33)

Both Sumerian and Hebrew legends speak of a flood which destroyed the habitable world as they knew it).Lt. Col. Wagstaff, a distinguished explorer)

یہی معاملہ کشتی نوح کا ہے۔ قدیم زمانے میں کشتی نوح کا معاملہ ایک مذہبی افسانہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب وہ ایک تاریخی واقعہ بن چکا ہے۔

کوئی بھی شخص ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع پہاڑی سلسلے کے اوپر ہوائی پرواز کر کے کشتی کو دیکھ سکتا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ یہ مقام ٹورسٹ میپ (tourist map) میں خصوصی جگہ حاصل کرلے۔ خبروں سے معلوم ہوا ہے کہ ترک گورنمنٹ اس علاقے کو سیاحتی مقام کے طور پر ڈیولپ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

اسلام کی تعلیمات کے مطابق، جب انسانی تاریخ کے خاتمہ کا وقت آئے گا اور آخرت کا دور شروع ہوگا تو فرشتہ اسرافیل صور پھونکے گا۔ یہ صور آواز کی صورت میں نئے دور کی آمد کا اعلان ہوگا۔ کشتی نوح کا ظہور اسی قسم کا ایک واقعہ ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ صور اسرافیل کے ذریعے جس حقیقت کا اعلان زبان قال کی صورت میں کیا جائے گا، کشتی نوح زبان حال کی صورت میں اسی حقیقت کو بیان کرے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page