Al-Risala · January 2013 · page

سبق کا پہلو

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

آخر کار انسان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، وہ یہ کہ خدائی منصوبے کے تحت، صالح بندوں کو غیر صالح بندوں سے الگ کر دیا جائے اور پھر صالح بندوں کو ابدی جنت میں عزت کی جگہ دی جائے اور غیر صالح لوگوں کو ابدی جہنم میں ذلت کی زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔

اس قسم کی دوسری مثال حضرت نوح کی ہے۔ حضرت نوح قدیم عراق (Mesopotamia) کے علاقہ میں آئے۔ وہ بہت لمبی مدت تک وہاں کے لوگوں کو بتاتے رہے کہ اللہ نے تم کو پیدا کر کے آزاد نہیں چھوڑ دیا ہے، بلکہ وہ تمھارا امتحان لے رہا ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ کون اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر رہا ہے اور کون غلط استعمال کر رہا ہے۔

جب امتحان کی مدت پوری ہوگی تو خدا کا فیصلہ ظاہر ہوگا اور اچھے انسان اور برے انسان دونوں چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کر دئے جائیں گے۔ اس کے بعد اچھے لوگوں کو جنت میں داخلہ ملے گا اور برے لوگوں کو جہنم میں۔

طوفان سے پہلے حضرت نوح نے اللہ کے حکم سے پیشگی طور پر ایک بڑی کشتی بنا لی تھی۔ حضرت نوح اور آپ کے ماننے والے لوگ کشتی میں سوار ہو گئے۔ یہ لوگ اس کشتی کے ذریعے سیلاب کے اوپر تیرتے ہوئے محفوظ رہے۔

اُس وقت اللہ نے جو کہا تھا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: قيل يا نوح اهبط بسلام منا وبركات عليك وعلى أمم ممن معك، و أمم سنمتعهم ثم يمسهم منا عذاب أليم (11:48)

یہ بات پانچ ہزار سال پہلے کی ہے، جب کہ دنیا میں نہ کوئی تہذیب تھی اور نہ کوئی ٹکنالوجی۔ یہ بات اگرچہ بائبل اور قرآن میں بتائی گئی تھی، لیکن لوگ اس کو مذہبی افسانہ (religious myth) سمجھتے تھے، مگر عجیب بات ہے کہ بیسویں صدی کے آخر میں یہ دونوں باتیں ایک معلوم واقعہ بن گئیں۔ ایک طرف، عراق اور شام کے علاقے میں ایسے آثار ملے جو بتاتے ہیں کہ اس علاقے میں ایک بہت بڑا سیلاب آیا تھا، اور دوسری طرف کشتی نوح جو بھاری برف کے نیچے دبی ہوئی تھی، وہ برف کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page