Al-Risala · June 2013 · page

قانونِ فطرت کو جانیے

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

مذکورہ واقعہ 1951 میں پیش آیا۔ اب اس واقعے پر 60 سال سے زیادہ کی مدت گزر چکی ہے۔ اب ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ جواہر لال نہرو کے اندیشے کا عملی تجزیہ کر سکیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جواہر لال نہرو کا اندیشہ (apprehension) واقعہ نہ بن سکا۔ اس درمیان ہندو احیائیت (Hindu revivalism) کی تحریکیں اس کے داعیوں کی طرف سے پوری طاقت کے ساتھ چلائی جاتی رہیں، مگر آج عملاً جس چیز کا غلبہ ہے، وہ تمام تر مغربی کلچر ہے، نہ کہ ہندو کلچر، حتیٰ کہ جو ہندو لیڈر ہندو احیائیت کے علم بردار بنے ہوئے تھے، ان کے اپنے بیٹے اور پوتے ہندو کلچر کو چھوڑ کر تیزی کے ساتھ مغربی کلچر کی طرف دوڑ رہے ہیں۔

اس سلسلے میں دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ دوبارہ کچھ ہندو لیڈروں نے ایک رُتھ یاترا نکالی۔ یہ رتھ یاترا سوم ناتھ سے شروع ہو کر اجودھیا تک پہنچی۔ یہاں انھوں نے ایک بھیڑ اکٹھا کی۔ اس بھیڑ نے 6 دسمبر 1992 کو اجودھیا کی تاریخی بابری مسجد کو ڈھادیا۔

یہ احیا پرست لوگ جس وقت بابری مسجد کو ڈھا رہے تھے، اُس وقت یہ نعرہ ان کی زبان پر تھا کہ ــ اجودھیا تو جھانکی ہے، کاشی، متھرا باقی ہے۔ اس واقعے کے بعد تمام مسلم رہنما اس اندیشے میں پڑ گئے کہ اب ہندوستان کی تمام مسجدیں ڈھائی جائیں گی۔ اس معاملے کو لے کر مسلم رہنماؤں نے تقریر اور تحریر کے ذریعے احتجاجی ہنگامے برپا کیے، مگر عملاً کیا ہوا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اجودھیا میں اس تحریک پر فل اسٹاپ (full stop) لگ گیا، وہ کا ما (comma) نہ بن سکا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ــ اس دنیا میں ہمیشہ حقائق غالب (prevail) ہوتے ہیں، نہ کہ اندیشے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page