اللہ کے دشمن
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
اللہ کے دشمن
قرآن کی سورہ حم السجدہ میں اُن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو دعوت الی اللہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی متعلق آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ’اور انکار کرنے والوں نے کہا اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں خلل ڈالو، تا کہ تم غالب رہو۔ پس ہم انکار کرنے والوں کو سخت عذاب چکھائیں گے اور اُن کو ان کے عمل کا بدترین بدلہ دیں گے۔ یہ اللہ کے دشمنوں کا بدلہ ہے، یعنی آگ۔ اُن کے لیے اس میں ہمیشہگی کا ٹھکانا ہوگا، اس بات کے بدلے میں کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے۔ ‘ (28-41:26) ’آیتوں کا انکار‘ سے مراد دعوت الی اللہ کی صداقت سے انکار ہے۔ ایسے لوگوں کو ’اعداء اللہ‘ کہا گیا ہے، یعنی اللہ کے دشمن۔ دعوت کا مشن ایک خدائی مشن ہوتا ہے۔ جو لوگ دعوت الی اللہ کی مخالفت کریں، وہ خدائی مشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اسی بنا پر اُن کو اللہ کا دشمن بتایا گیا ہے۔ دعوت الی اللہ کے کام کو قرآن میں انذار اور تبشیر (4:165) کہا گیا ہے، یعنی آخرت کی پکڑ سے انسان کو آگاہ کرنا اور آخرت کے انعام سے انسان کو باخبر کرنا۔ یہ کام خود اللہ کا مطلوب کام ہے۔ اللہ کو مطلوب ہے کہ تمام انسان موت سے پہلے یہ جان لیں کہ موت کے بعد اُن کے ساتھ اللہ کے یہاں کیا معاملہ ہونے والا ہے۔ یہ کام اگرچہ اللہ کا مطلوب کام ہے، لیکن اس دنیا میں اس کو انجام دینے والا انسان ہوتا ہے، یعنی پیغمبر اور داعی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دعوت الی اللہ کا مشن ایک خدائی مشن ہے، اگر چہ بظاہر وہ انسانوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔
ایسی حالت میں دعوتی مشن کی مخالفت، اللہ کی مخالفت ہے۔ جو لوگ دعوتی مشن کی مخالفت کرتے ہیں، وہ اپنے خیال کے مطابق، انسان کی مخالفت کر رہے ہوتے ہیں، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ اللہ کے کام کی مخالفت کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو قرآن میں اللہ کے دشمن (اعداء اللہ) کہا گیا ہے۔ آخرت میں اُن کے ساتھ اللہ کے دشمن جیسا معاملہ کیا جائے گا، نہ کہ اللہ کے دوست جیسا معاملہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues