انگریزی تعلیم
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
بہترین افراد حاصل ہوئے، وغیرہ۔ اس معاملے میں اصل قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ لارڈ میکالے یا برٹش حکمرانوں نے بطورِ خود کس نظریے کے تحت انگریزی تعلیم گاہیں بنائیں، بلکہ اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ باعتبارِ نتیجہ ان کا انجام کیا ہوا، اور یہ کہ یہاں سے کس قسم کے لوگ تعلیم پا کر نکلے۔ انگریزی تعلیم حقیقتاً برٹش تعلیم نہ تھی، بلکہ وہ جدید علم (modern learning) کے حصول کا ذریعہ تھی۔ ماڈرن ایجوکیشن اپنی حیثیت کے اعتبار سے نہ پروبرٹش (pro-British) تھی اور نہ اینٹی مسلم، وہ صرف جدید علوم تک پہنچنے کا ایک ذریعہ تھی۔ ’’انگریزی تعلیم‘‘ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اندر ذہنی جمود ٹوٹا، ان کے اندر کھلاپن آیا، ان کے اندر متعصبانہ طرزِ فکر (biased thinking) کا خاتمہ ہوگا، وہ چیزوں کو موضوعی انداز (objective way) میں دیکھنے لگے، ان کے اندر کٹر پن ختم ہو گیا، ان کے اندر چیزوں کو عقل (reason) کے معیار پر جانچنے کا مزاج پیدا ہو گیا، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں عین دینِ حق کے موافق تھیں، کیوں کہ دینِ حق انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، وہ عقل کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے۔ دین حق کے راستے میں اگر کوئی چیز رکاوٹ ہے تو وہ صرف متعصبانہ طرزِ فکر ہے۔ کسی بھی طریقے سے اگر متعصبانہ طرزِ فکر کو ختم کر دیا جائے تو دین حق اور انسان کے درمیان حائل فکری دیوار اپنے آپ منہدم ہو جائے گی۔ اس کے بعد انسان اس قابل ہو جائے گا کہ وہ حقیقت کو اس کی بے آمیز صورت میں دیکھ سکے۔ انگریزی تعلیم یا سیکولر تعلیم کے ذریعے یہی واقعہ پیش آیا۔ اس تعلیم کے ذریعے بہت سے نوجوان اس قابل ہو گئے کہ وہ حقیقت کو در یافت کر کے اس کو قبول کر لیں۔ موجودہ زمانے میں اس طرح کی مثالیں ہر مقام پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ قدیم زمانہ قیاسی استدلال کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ سائنسی استدلال کا زمانہ ہے۔ آج کے انسان کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے کے لیے سائنسی استدلال کی ضرورت ہے۔ انگریزی تعلیم نے اسی دروازے کو کھولا تھا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی صورتِ حال پیش آئے تو اگر چہ وہ بظاہر عُسر دکھائی دیتی ہو تب بھی آپ اس کے اندر یُسر تلاش کریں۔ ہر نئی صورتِ حال ہمیشہ نئے مواقع کو لاتی ہے۔ ایسی حالت میں اصل کام صرف یہ ہے کہ مواقع کو دریافت کر کے ان کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues