ربوبیت: کائنات میں ربانی تنظیم
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
ربوبیت: کائنات میں ربانی تنظیم
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ سارے عالم کا رب ہے (1:1)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کائنات کو پیدا کر کے اس کو چھوڑ نہیں دیا، بلکہ وہ ہر لمحہ کائنات کو میچ کر رہا ہے، مادی کائنات کو بھی اور انسانی تاریخ کو بھی۔ مادی کائنات میں اللہ کا مینیج منٹ (management) کلی معنوں میں ہے، لیکن انسان کو چوں کہ انتخاب کی آزادی (freedom of choice) ملی ہوئی ہے، اس لیے انسانی زندگی میں اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انسان کی آزادی کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے، اس کو میچ کر رہا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر انسان اپنا امتحان دے رہا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر انسان کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو اس طرح تعمیر کرے کہ وہ آخرت میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے جو کہ انسان کی اصل منزل ہے۔ اس مصلحت کے تحت اللہ موجودہ دنیا کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔ وہ انسانی تاریخ کو اس طرح میچ کر رہا ہے کہ موجودہ زمین اپنے دارالامتحان (testing ground) ہونے کی حیثیت کو کسی خلل کے بغیر مسلسل طور پر برقرار رکھے۔ اس کا مقصد زمین پر اجتماعی معنوں میں کوئی صالح نظام قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص اپنی انفرادی تعمیر کرنا چاہے، وہ کسی خلل کے بغیر اپنی شخصی تعمیر کرتا رہے۔ اللہ کی اس سنت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ (2:251) یعنی اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا تو زمین فساد سے بھر جائے، مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے: And if God did not check one set of people by means of another, the earth would indeed be full of mischief. But God is full of bounty to all worlds. انسانی تاریخ کے بارے میں اللہ کا یہ منصوبہ بظاہر کسی اعلان کے بغیر اپنا کام کر رہا ہے۔ قرآن کی سورہ الکہف (18:60-82) میں موسیٰ اور خضر کے جو واقعات بیان کیے گئے ہیں، وہ اسی مینیج منٹ کی ایک جزئی مثال ہیں۔ اس میں جس کردار کو خضر کہا جاتا ہے، وہ دراصل ایک فرشتہ تھا، نہ کہ کوئی انسان۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues