Al-Risala · June 2013 · page

دو طرفہ انتظام

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

ہیں اللہ کے مددگار۔ پس بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگوں نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی، اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں، مدد کی، پس وہ غالب ہو گئے۔ قرآن کی اس آیت میں ایک بہت اہم بات کہی گئی ہے۔ اس آیت کا خطاب امتِ مسلمہ سے ہے، لیکن اس میں امتِ مسیح کے ایک نمونے کو بطور ماڈل پیش کیا گیا ہے اور امتِ مسلمہ سے یہ کہا گیا ہے کہ تم بھی اُسی ماڈل کے مطابق کام کرو جس کے مطابق ، امتِ مسیح نے کام کیا یا مستقبل میں کام کریں گے۔ یہ ماڈل آئیڈالوجی یا عقیدہ کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ صرف طریقِ کار (method) کے اعتبار سے ہے۔ اس اعتبار سے، امتِ مسیح (Christian community) کے یہاں جو ماڈل ملتا ہے، اس کی دو تاریخی مثالیں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں مسیحی گروہ، تعداد کے اعتبار سے، سب سے بڑا مذہبی گروہ بن جائے گا (صحیح مسلم، کتاب الفتن)۔ ایسا کیوں کر ہوگا، اس کا جواب بھی اسی مثال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس معاملے کی پہلی مثال وہ ہے جو خود حضرت مسیح کے زمانے میں پیش آئی۔ حضرت مسیح کا مقامِ عمل قدیم فلسطین تھا۔ فلسطین میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں پر سخت ظلم کیا گیا، مگر حضرت مسیح کی تعلیم کے مطابق، اُن کے پیروؤں نے اپنے دشمنوں سے کوئی نفرت نہیں کی۔ انھوں نے دشمنوں کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی، حتی کہ ان کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ بھی نہیں کیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ فلسطین سے باہر چلے گئے اور حضرت مسیح کی تعلیم: دشمن سے محبت کرو (love your enemy) کے اصول پر عمل کرتے ہوئے پر امن دعوت (peaceful missionary work) میں مشغول ہو گئے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ سینٹ پال کے زیرِ اثر مسیحی گروہ کے اندر کچھ نظریاتی انحرافات پیدا ہوئے، لیکن جہاں تک پر امن طریق کار کا معاملہ ہے، اُس پر وہ بدستور پوری طرح قائم رہے۔ پر امن مشنری سرگرمیوں کے ذریعے مسیحیت مختلف ملکوں میں پھیلتی رہی، یہاں تک کہ رومی شہنشاہ کانسٹینٹین اول (Constantine I) نے 337 میں مسیحی مذہب قبول کر لیا۔ یہ الناس علی دین ملوکھم کا دور تھا۔ چناں چہ جلد ہی ایسا ہوا کہ یورپ کے تقریباً تمام باشندوں نے مسیحی مذہب کو اختیار کر لیا، مسیحی گروہ کو یہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page