Al-Risala · June 2013 · page

دو طرفہ انتظام

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

غیر معمولی کامیابی تمام تر پرامن دعوت کے ذریعے حاصل ہوئی۔

مسیحی گروہ کے ذریعے تاریخ میں اس سلسلے میں دوسرا ماڈل ساتویں صدی عیسوی میں قائم ہوا۔ ساتویں صدی میں مسلمانوں کو جب عروج ہوا تو انھوں نے رومن ایمپائر کو توڑ دیا اور اس مسیحی سلطنت کے پورے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اس علاقے میں مسیحی عقیدے کے مطابق ، مقدس مقامات، شام اور فلسطین، بھی شامل تھے۔ بعد کے زمانے میں یورپ کے مسیحی بادشاہوں کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا کہ وہ اپنے مقدس مقامات کو مسلمانوں سے واپس لے لیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے وہ جنگ چھیڑی جو تاریخ میں، صلیبی جنگ (Crusades) کے نام سے مشہور ہے۔ صلیبی جنگ وقفے وقفے سے تقریباً دو سو سال (1291-1095) تک جاری رہی۔ مورخ گبن کے الفاظ میں، اس جنگ میں یورپ کی مسیحی قوموں کو ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) ہوئی۔ مگر تاریخ کا یہ انوکھا معجزہ ہے کہ اس شکست کے بعد مسیحی قوموں میں منفی ردعمل (negative reaction) کا جذبہ پیدا نہیں ہوا، بلکہ انھوں نے یہ کیا کہ اپنے جذبے کو پر امن عمل کی طرف ڈائیورٹ (divert) کر دیا، یعنی مسلمانوں سے مسلح مقابلہ ختم کر کے علم وتحقیق کے میدان میں اپنی کوششوں کو صرف کرنا۔ ڈائیورژن (diversion) کے اس عمل کو ابتدائی زمانے میں، اسپرچول کروسیڈ (spiritual crusades) کہا گیا تھا۔ بعد کو وہ رفتہ رفتہ سائنٹفک کروسیڈ (scientific crusades) میں تبدیل ہو گیا۔ اس عمل میں اُس وقت چرچ رکاوٹ بن گیا تو انھوں نے سخت جدوجہد کے بعد چرچ کے اختیارات پر حد بندی قائم کردی، پھر 1929 میں چرچ کو ویٹیکن (روم) کے محدود رقبے میں گویا ہاؤس اریسٹ (house arrest) کر دیا جس کا کل رقبہ صرف 109 مربع ایکڑ ہے۔ اِس دور میں یورپ کے جن لوگوں نے سائنٹفک کروسیڈ (scientific crusades) یا سائنسی ریسرچ کے میدان میں کام کیا، وہ تقریباً سب کے سب مسیحی افراد تھے۔ اِس سائنسی عمل میں بریک تھرو (breakthrough) اُس وقت آیا، جب کہ 1609 میں اٹلی کے فلکیاتی عالم گلیلیو (Galileo Galilei) نے ابتدائی دوربین تیار کی اور اس کے ذریعے خلا کا مشاہدہ کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page