قابل تقلید ماڈل
الرسالہ، جون ۲۰۱۳، صفحہ ۲۰
تہذیب وجود میں آئی ہے، اس نے مسلمانوں کے لیے خدمتِ دین اور اشاعتِ اسلام کے نئے وسیع تر دروازے کھول دئے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر فرمایا تھا کہ بعد کے دور میں اللہ تعالیٰ کچھ سیکولر لوگوں کو کھڑا کرے گا جو دین کے حق میں تائیدی رول (supporting role) انجام دیں گے۔ مغرب کی مسیحی قوموں کا کارنامہ اسی قسم کا تائیدی کارنامہ تھا۔ اس موقع پر مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ مغربی قوموں کے خلاف نفرت اور تشدد کی پالیسی کو مکمل طور پر ختم کردیں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو ان کے اندر ایک نیا مثبت ذہن ابھرتا۔ اس کے بعد وہ جان لیتے کہ مغربی قوموں نے ان کے لیے کتنا بڑا تائیدی کام انجام دیا ہے۔ اس تائیدی کام کا ایک پہلو وہ ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے— عن قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ ان کے اوپر یہ آشکارا ہوجائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے (40:53)۔ قرآن کی اس آیت میں جن چیزوں کو آیات (signs) کہا گیا ہے، اُن سے مراد وہی سائنسی حقیقتیں ہیں جو پہلی بار مغربی قوموں کے ذریعے انسان کے علم میں آئیں ۔ یہ سائنسی دریا فتیں بے شمار پہلوؤں سے اسلام اور دعوتِ اسلام کے لیے مفید اور معاون ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ساتویں صدی میں جو اسلامی انقلاب آیا تھا، وہ ایک پہلو سے تاریخ میں ایک نئے عمل (process) کا آغاز تھا۔ یہ عمل تدریجی طور پر اپنا کام کرتا رہا۔ نشاۃ ثانیہ کے بعد یورپ میں جو انقلابات آئے، وہ سب اسی تاریخی عمل کی تکمیل تھے۔ مثلاً افکار کے معاملے میں کھلا پن (intellectual openness)، مذہبی آزادی، تشدد کے طریقے کا بحیثیت اصول ختم ہو جانا، بادشاہت کے بجائے جمہوریت کا نظام، پرنٹنگ پریس کا دور، وغیرہ۔
اِس قسم کی تمام تبدیلیاں جو مغربی تہذیب کے بعد دنیا میں آئیں، وہ سب خود اسلام کا مطلوب تھیں۔ ان تبدیلیوں کے ذریعے یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کی صداقت کو خالص علمی اعتبار سے مدلّل کیا جائے۔ جدید ٹکنالوجی اور کمیونیکیشن نے اس بات کو ممکن بنا دیا کہ اسلام کی اشاعت کو عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے۔ اس طرح کی بے شمار جدید چیزیں ہیں جو عین اسلام کے حق میں ہیں اور وہ عملاً سب کی سب مغربی تہذیب کے نتیجے میں انسان کو حاصل ہوئی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues