قابل تقلید ماڈل
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
موقع پر اختیار فرمایا تھا۔ مگر مسلمان بحیثیت قوم اس سے بے خبر ہے، وہ اس ماڈل کو اپنانے میں ناکام رہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں اس کی دو بڑی مثالیں موجود ہیں۔
پہلی مثال وہ ہے جو نو آبادیاتی طاقتوں کے ظہور کے بعد پیش آئی۔ اس دور میں یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں نے مسلمانوں کی سلطنتوں کو توڑ دیا اور ان کے سیاسی دبدبے کو ختم کر دیا۔ اس کے بعد مسلمان منفی ردعمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے۔ وہ نفرت اور انتقام اور تشدد میں مبتلا ہو کر رہ گئے، حالاں کہ قرآن میں بیان کردہ پیروان مسیح کے ماڈل کے مطابق، انھیں یہ کرنا تھا کہ وہ پر امن طریق کار اختیار کرتے، یعنی وہ میدان جنگ کو چھوڑ کر میدان دعوت میں آجاتے، جن لوگوں کو وہ اپنا حریف سمجھ کر اُن سے متشددانہ ٹکراؤ کر رہے تھے، اُن کو مدعو کا درجہ دے کر وہ ان کے اوپر پرامن دعوت شروع کر دیتے۔ اگر مسلمان ایسا کرتے تو یقیناً اُن کے اوپر قرآن کے وہ الفاظ صادق آتے جو اس سے پہلے پیروان مسیح کے اوپر صادق آچکے تھے، یعنی: فأيدنا الذين آمنوا علی عدوهم فأصبحوا ظاهرین (61:14)
پیروان مسیح کے ماڈل میں دوسرا نمونہ وہ تھا جو صلیبی جنگوں کے بعد ظہور میں آیا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دنیا کے اوپر پہلی بار فطرت کے قوانین (laws of nature) منکشَف ہوئے اور جدید تہذیب وجود میں آئی جس کے نتیجے میں پوری انسانیت کو بے شمار فائدے حاصل ہوئے۔
اس دوسرے معاملے میں بھی مسلمان پوری طرح ناکام ہو گئے۔ قرآن میں بیان کردہ پیروان مسیح کے ماڈل میں ان کے لیے یہ پیغام تھا کہ مغربی قوموں سے مقابلہ آرائی میں جب باعتبار نتیجہ وہ ناکام ہو جائیں تو وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی (revision) کریں۔ اسی نظر ثانی کو قرآن میں اجتماعی توبہ (24:31) کہا گیا ہے۔ نظر ثانی کا وہ عمل یہ تھا کہ مسلمان اپنی کوششوں کو ٹکراؤ کے میدان سے ہٹائیں اور وہ اپنے آپ کو پوری طرح تعمیری کام میں لگا دیں، مگر مسلمان نفرتِ مغرب میں اتنی شدت سے مبتلا ہوئے کہ ان کے اندر یہ تعمیری سوچ پیدا نہ ہوسکی۔
اگر مسلمان اپنی منفی نفسیات سے باہر آکر مثبت انداز میں سوچتے تو اُن کو معلوم ہوتا کہ مغرب کی مسیحی قوموں نے جو کارنامہ انجام دیا ہے، وہ عین اُن کی اپنی موافقت میں ہے۔ اس کے نتیجے میں جو جدید
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues