پیرانوئیا کی نفسیات
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
انھوں نے اس کو پس پشت ڈال دیا۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کی ذمے داری کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاس (22:78) یہ ایک حقیقت ہے کہ یہود نے اپنے بعد کے زمانے میں تبیین حق کی ذمے داری کو چھوڑ دیا، حتیٰ کہ اس حکم کی فرضیت اُن کے لیے ایک نامعلوم چیز بن گئی۔ انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ بنا لیا کہ نجات (salvation) صرف یہود (بنی اسرائیل) کے لیے ہے۔ غیر یہود کے لیے نجات ہی نہیں۔ ٹھیک یہی حال بعد کے زمانے میں مسلمانوں کا ہوا۔ دعوت یا شہادت علی الناس کا حقیقی تصور ان کے ذہن سے حذف ہو گیا۔ ان کی تفسیریں ، اُن کی شرحیں اور ان کی تیار کردہ کتابیں دعوت الی اللہ کے حقیقی تصور سے خالی ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو خِیر امت“ کا درجہ دے رکھا ہے اور دوسروں کو انھوں نے عملاً کافر کا درجہ دے کر اَن کو نظر انداز کردیا ہے- موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے بظاہر دعوت کے نام سے ادارے قائم کیے ہیں، اور اس کے تحت کچھ سرگرمیاں کر رہے ہیں، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ سرگرمیاں دعوتی سرگرمیاں نہیں۔ ان کی سرگرمیوں کو دو قسم میتقسم کیا جاسکتا ہے— ایک، وہ لوگ ہیں جو دعوت کے نام پر ڈیبیٹ (debate) کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کے مذہب پر مسلمانوں کے مذہب کی برتری ثابت کرتے ہیں۔ اس سے مسلمانوں کے جذبہ فخر کو تسکین ملتی ہے۔ مسلمان اُن کی تقریروں پر خوش ہو کر تالیاں بجاتے ہیں، مگر اس قسم کا ڈبیٹ صرف ایک قومی کام ہے، اس کا دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو دعوت کا نام لیتے ہیں، لیکن عملاً اُن کا کام یہ ہے کہ وہ عوام کے اندر جائیں اور پر اسرار قسم کے بے اصل قصے کہانیاں سنا کر وقتی طور پر لوگوں سے کلمہ پڑھوائیں۔ اس طرح کے کام سے مسلمان خوش ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کا تعاون کرتے ہیں، اس لیے کہ اس کام میں مسلمانوں کو یہ نفسیاتی تسکین ملتی ہے کہ اُن کی قوم کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دعوت الی اللہ کے کام کا نہ قومی فخر سے کوئی تعلق ہے اور نہ قومی تعداد بڑھانے سے۔ دعوت الی اللہ تمام تر شہادت علی الناس کا کام ہے۔ دعوت کا کام انسانوں کی خیر خواہی میں خالص آخرت کے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues