Al-Risala · June 2013 · page

پیرانوئیا کی نفسیات

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

جذبے کے تحت ہوتا ہے۔ دعوت کا کام کیا ہے ، اس کی حقیقت قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ (4:165)۔ پچھلی تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ کچھ طاقتوں نے فلسطین میں یہودیوں کے خلاف پر تشد د کارروائیاں کیں۔ اس کے بعد یہود کی تاریخ میں ایک ظاہر و پیدا ہوا جس کو ڈائس پورا (diaspora) کہا جاتا ہے، یعنی اپنے وطن سے ہجرت کرنا اور دوسرے مقام پر جا کر آباد ہونا۔ اس طرح جو یہودی فلسطین کو چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں گئے ، وہ اپنی علاحدہ قومی شناخت (identity) کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ چناں چہ وہ جس ملک میں گئے، وہاں انھوں نے اپنی علاحدہ بستیاں بنا ئیں۔ ان بستیوں کو گھیٹو (ghetto) کہا جاتا ہے۔ اپنی شناخت برقرار رکھنے کے نام پر اس طرح علاحدہ بستیاں بنانا کوئی سادہ بات نہ تھی۔ اس طرح علاحدہ رہنے کی وجہ سے اُن کے اندر ایک ذہنیت پیدا ہوئی جس کو گھیٹو مینٹیلٹی (ghetto mentality) کہا جاتا ہے۔ بعد کے زمانے میں خود یہودیوں میں گھیٹو کا یہ کلچر باقی نہ رہا۔ وہ تعلیم اور دوسرے جدید شعبوں میں دوسری قوموں کے ساتھ مل کر کام کرنے لگے۔ اس طرح یہودیوں کے اندر گھیٹو مینٹیلٹی بڑی حد تک ختم ہو گئی۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر بھی یہی کلچر رائج ہوا، یعنی مسلم شناخت کے نام پر دوسروں سے الگ ہو کر رہنا۔ یہ صورت حال تادم تحریر برقرار ہے۔ اس روش نے مسلمانوں کے اندر بہت بڑے پیمانے پر گھیٹو ذہنیت پیدا کردی۔ اسی گھیٹو ذہنیت کا ایک سیاسی مظاہرہ وہ تھا جس کو پاکستانائزیشن (Pakistanization) کہا جا سکتا ہے۔

اس پاکستانائزیشن کے نام پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو جو نقصان پہنچا ہے، اُس کی کوئی مثال پچھلی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ موجودہ زمانے میں پاکستانائزیشن کی پالیسی اسلام کے نام پر اختیار کی گئی، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، وہ صرف سیاسی گھیٹو ازم (political ghettoism) تھا ، اس کے سوا اور کچھ نہیں (25 جنوری 2013)

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page