دابہ کی تحقیق
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
قرآن اور حدیث دونوں میں بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک دابہ نکلے گا۔ دابہ کا ظہور گویا انسانی تاریخ کے ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کے آغاز کی علامت ہوگا۔ دابہ کا ظہور عملاً سارے انسانوں کے لیے آخری اتمام حجت کے ہم معنی ہوگا۔ اس کے بعد وہی واقعہ زیادہ بڑے پیمانے پر ہوگا جو حضرت نوح کے زمانے میں پیش آیا تھا، یعنی دوبارہ ایک بڑے طوفان کے ذریعے انسانوں میں سے صالح افراد کو بچا لینا اور غیر صالح افراد کو ہلاک کر دینا۔
حدیث کی کتابوں میں دابہ کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں، اُن میں زیادہ مستند اور معتبر روایت وہ ہے جو صحیح مسلم میں آئی ہے۔ اس میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک دابہ نکلے گا (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 158)۔
اس روایت میں اُن باتوں میں سے کوئی بات نہیں ہے جو دوسری روایتوں میں آئی ہے۔ مثلاً دابہ کے ساتھ موسیٰ کا عصا ہونا اور سلیمان کی انگشتری ہونا، وغیرہ۔ ان دوسری روایات میں کافی تعارض پایا جاتا ہے، اس لیے محقق علما نے صحیح مسلم کی مذکورہ روایت کے علاوہ، دوسری روایتوں کو عام طور پر ضعیف یا موضوع بتایا ہے۔ مثلاً امام رازی، علامہ آلوسی، علامہ البانی، وغیرہ۔ اس معاملے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ دابہ کو صرف دابہ کے معنی میں لیا جائے اور اس سے منسوب بقیہ تفصیلات کو غیر معتبر سمجھ کر اُن کو نظر انداز کر دیا جائے۔
دابہ کی تحقیق
دابہ کے لفظی معنی ہیں رینگنے والا (creeper)۔ اپنے استعمال کے اعتبار سے، دابہ کا لفظ حیوان کے لیے خاص نہیں ہے، وہ کسی بھی ایسی چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو رینگنے کی رفتار سے چلے۔ یہ استعمال عربی زبان اور غیر عربی زبان دونوں میں پایا جاتا ہے۔
مثلاً کہا جاتا ہے: دب الشراب في عروقه (مشروب کا اثر رگوں میں سرایت کر گیا)۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ: دب الجدول (نہر میں پانی کا جاری ہونا)۔ اسی طرح
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues