Al-Risala · January 2013 · page

دابہ کی تحقیق

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

کہا جاتا ہے: دب السقم في الجسم (جسم میں بیماری کا سرایت کرنا)۔ اسی لیے ایک مخصوص آلہ حرب کو ’دبابۃ‘ کہا جاتا ہے۔

اس مقصد کے لیے دبا بہ کا لفظ قدیم زمانے سے رائج ہے۔ قدیم زمانے میں دشمن کے قلعے تک پہنچنے کے لیے یہ کرتے تھے کہ معکوس یو (inverted U) کی شکل میں ایک گاڑی بناتے تھے جس کے نیچے پہیہ لگا ہوتا تھا۔ فوجی اس کے اندر داخل ہو جاتا اور پہیہ کے ذریعے اس کو چلاتا ہوا قلعے کی دیوار تک پہنچ جاتا اور پھر قلعے کی دیوار میں نقب لگا کر اس کے اندر داخل ہو جاتا۔ اس آلہ حرب کو دبا بہ کہا جاتا تھا۔

دبا بہ کی یہ قدیم ٹیکنک آج کے مشینی دور میں بھی رائج ہے۔ اسی اصول کے مطابق، موجودہ زمانے میں ٹینک (tank) بنائے گئے ہیں۔ موجودہ مشینی ٹینک کو بھی دبا بہ کہا جاتا ہے، یعنی وہ حربی گاڑی جو پہیے پر چلتی ہوئی دشمن کے قلعے تک پہنچ جائے۔

دبا بہ کی تشریح کے تحت یہی بات عربی لغات میں آئی ہے۔ مثلاً لسان العرب کے الفاظ یہ ہیں: الدَّبَّابَة: آلة تُتَّخَذ من جلود وخشبة، يدخل فيها الرجال، ويقربونها من الحصن المحاصر لينقبوه، وتقيم ما يرمون به من فوقهم۔ وفي حديث عمر رضی الله عنه قال: كيف تصنعون بالحصون؟ قال: نتخذ دبابات يدخل فيها الرجال۔

(371/1)

رینگنے کا لفظ اپنے اسی وسیعی مفہوم میں ہر زبان میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً گھنے کہر میں ٹرین آہستہ رفتار سے چلتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ ٹرین رینگ رہی ہے۔ امریکا کے ناولسٹ جیمس بالڈون (James Baldwin) نے اپنی ایک کہانی میں کشتی کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں— پرانی کشتی پانی کے اوپر گھونگھے کی رفتار سے رینگ رہی ہے:

The old boat creaps over the water no faster than a snail. 1- قرآن کی سورہ النمل کی آیت دابہ میں ’تکلم‘ بمعنی ينطق نہیں ہے، بلکہ وہ يدل کے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page