اسلام اور مسلمان
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
اسلام اور مسلمان
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ ابتدائی مشکلات کے بعد آپ کا مشن نہایت تیزی کے ساتھ پھیلا، یہاں تک کہ تقریباً 50 سال کے عرصے میں آپ کے ماننے والوں نے ایشیا اور افریقہ اور یورپ میں بڑی بڑی سلطنتیں قائم کرلیں۔ مسلمانوں کا یہ دبدبہ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ (3:140) کے فطری قانون کے تحت حالات بدلے۔ یورپ میں نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کا دور آیا۔ یورپی قو میں نئی طاقتوں سے مسلح ہو کر دنیا کے بیش تر حصے میں پھیل گئیں - یہ وہی دور تھا جس کو مسلم ایمپائر کا دور کہا جاتا ہے۔ فطری طور پر یورپی قوموں کا مقابلہ براہِ راست مسلم سلطنتوں سے ہوا۔ اٹھارھویں صدی عیسوی کا آخری زمانہ اس معاملے میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ ایک طرف، عثمانی سلطنت کو یورپی طاقت کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 1770 میں ترکوں کے مضبوط بحری بیڑے کو ایک لڑائی میں میڈی ٹیرینین سمندر میں تباہ کر دیا گیا :
The Ottoman naval establishment was wiped out at the Battle of Çeşme (1770) by a Russian fleet. (EB. 13/784)
اس سلسلے میں دوسرا واقعہ ہندوستان میں پیش آیا۔ اُسی زمانے میں برٹش فوجیں ہندوستان میں داخل ہوئیں اور تیزی سے پیش قدمی کرنے لگیں۔ اٹھارھویں صدی کے آخر میں اُن کا مقابلہ میسور کے سلطان ٹیپو سے پیش آیا۔ برٹش فوجیں کامیاب ہوئیں اور 1799 میں انھوں نے سرنگا پٹنم میں سلطان ٹیپو کو ہلاک کر کے میسور کی سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ اُس وقت سلطان ٹیپو کی لاش کے پاس کھڑے ہو کر جنرل ہیرس (George Harris) نے فاتحانہ انداز میں کہا تھا کہ آج ہندوستان ہمارا ہے : Today, India is ours!
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues