Al-Risala · June 2013 · page

اسلامی لٹریچر کا معاملہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

صدیوں میں یہ ہوا کہ اسلام کے متن کی تشریح و تفصیل کے طور پر ہزاروں کتابیں عربی زبان میں لکھی گئیں۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ بعد کو لکھی جانے والی یہ کتابیں شعوری یا غیر شعوری طور پر اسلام کا اصل ماخذ قرار پا گئیں۔ اب یہی کتابیں مدرسوں اور اداروں اور لائبریریوں میں استعمال ہوتی ہیں، ہر جگہ انھیں کا چرچا ہوتا ہے، حتیٰ کہ عملاً اب قرآن اور سنت کی حیثیت ثانوی ہوگئی ہے اور بعد کو پیدا ہونے والے لٹریچر کو بلا اعلان اسلام کے اولین لٹریچر کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ اب موجودہ مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ فکری حیثیت سے وہ دین منزل پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں، اب عملاً وہ اُس دین پر کھڑے ہوئے ہیں جو بعد کی صدیوں میں مسلم علما نے اصل دین کی تشریح و تفصیل کی حیثیت سے بطور خود مدوّن کیا۔ مسلمانوں کی یہ صورتِ حال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس پیشین گوئی کی تصدیق ہے جو حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آئی ہے: من اقتراب الساعة أن يرفع الأشرار، ويوضع الأخيار، ويوضع في القوم المثناة، ليس أحد يغيرها، قيل: وما المثناة - قال: كتاب كتب سوى كتاب الله عز وجل (المستدرك على الصحيحين، رقم الحديث: 8782) یعنی قربِ قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ برے لوگوں کو بلندی حاصل ہو جائے گی، اور اچھے لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا، اور لوگوں کے درمیان مُثناة‘ کا رواج عام ہو جائے گا، کوئی نہ ہو گا جو اس کی تغییر کرے۔ پوچھا گیا کہ مثناة کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اللہ کی کتاب کے سوا لکھی جانے والی کتابیں۔

اس حدیث میں دراصل امتِ مسلمہ کے زوال کی حالت کو بتایا گیا ہے۔ جب ملت پر زوال کا دور آتا ہے تو اس کی حالت بھی وہی ہو جاتی ہے جو دوسری ملتوں کی ہوئی، یعنی لوگ ظاہر پسند بن جاتے ہیں۔ اُن کو معنوی حقائق دکھائی نہیں دیتے، البتہ ظاہری چیزیں خوب نظر آتی ہیں۔ لوگوں کے اس بگڑے ہوئے ذوق کی بنا پر اُن کے درمیان دنیا پرست قسم کے لوگ ابھرتے ہیں اور آخرت پسند قسم کے لوگ غیر نمایاں بن جاتے ہیں۔ جو لوگ بگڑے ہوئے عوامی ذوق کو غذا فراہم کریں، وہ مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں اور جو لوگ اپنی سنجیدگی کی بنا پر عوامی ذوق کی رعایت نہ کر سکیں، وہ اُن کے درمیان

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page