اسلامی لٹریچر کا معاملہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
غیر مقبول بن جاتے ہیں۔ اس وقت ایسے لوگ ابھرتے ہیں جو اگرچہ روحانی اعتبار سے خالی ہوتے ہیں، لیکن اپنے شان دار مذہبی لباس کے ذریعے وہ لوگوں کے درمیان اپنے کو نمایاں بنا لیتے ہیں۔ ان کے خوش نما الفاظ، ان کا بناوٹی انداز، ان کی بڑی بڑی باتیں عوام کو اپیل کرتی ہیں۔ ایسے لوگ حقیقت کے اعتبار سے، اگرچہ "اشرار" ہوتے ہیں، لیکن عوام کے بگڑے ہوئے ذوق کی بنا پر وہ اُن کے درمیان "اخيار" کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی تقریر اور تحریر کو حدیث میں ’مثناة‘ کہاگیا ہے۔
مذکورہ حدیث میں اللہ کی کتاب کے سوا جن کتابوں کا ذکر ہے، اُن سے مراد عام کتابیں نہیں ہیں، بلکہ ان سے مراد وہ کتابیں ہیں جو امت کے بعد کے زمانے میں دین خداوندی کی تفسیر اور تشریح کے طور پر لکھی جائیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان قابلِ ترک کتابوں سے مراد وہ کتابیں ہیں جو اُس زمانے میں لکھی جائیں جو قرونِ مشہود لہا بالخیر کے بعد کا زمانہ ہے۔ اس قسم کی کتابیں پچھلی امتوں کے زمانہ مابعد میں لکھی گئی تھیں، اسی طرح وہ یقینی طور پر خود امت مسلمہ کے زمانہ مابعد میں بھی لکھی جائیں گی۔ اس معاملے میں کسی حاملِ کتاب امت کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔
بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی کتابیں دو قسم کی ہوسکتی ہیں— ایک وہ جو کتاب اللہ کے گہرے مطالعے کے بعد اس کی حقیقی وضاحت کے طور پر لکھی جائیں۔ اور دوسری کتابیں وہ ہیں جو دور زوال میں لوگوں کے بگڑے ہوئے ذوق کی رعایت کے طور پر لکھی جائیں۔ مذکورہ حدیث میں ’مثناة‘ کے نام سے جن کتابوں کا ذکر ہے، وہ یہی دوسرے قسم کی کتابیں ہیں۔ امت مسلمہ کے بعد کے دور میں جو کتابیں لکھی گئیں، وہ اُس وقت لکھی گئیں، جب کہ مسلمان ایک نظریاتی گروہ کی حیثیت سے باقی نہیں رہے تھے، بلکہ وہ عام قوموں کی طرح ایک قوم بن چکے تھے، چناں چہ ان کتابوں میں ایک مشترک خامی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے قومی ذہن کی عکاسی کرتی ہیں، نہ کہ اسلام کے اصولی موقف کی۔ بعد کے دور میں مسلمان دوسری قوموں کو مدعو کے بجائے محکوم کی نظر سے دیکھنے لگے، اس لیے ایسا ہوا کہ بعد کے دور میں پیدا ہونے والے لٹریچر میں دعوت الی اللہ کا باب حذف ہو گیا۔ بعد کے دور میں
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues