اسلامی لٹریچر کا معاملہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
کے تحت قرآن اور سنت کا مطالعہ کیا جائے اور پھر ایسا لٹریچر تیار کیا جائے جو جدید ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ بعد کے پیدا شدہ لٹریچر کی تاریخی حیثیت ہمیشہ باقی رہے گی، لیکن جہاں تک ماخذ کی بات ہے، اسلام میں مستند ماخذ کی حیثیت ہمیشہ قرآن اور سنت کو حاصل رہے گی۔ ایک ’’روشن خیال‘‘ مسلمان نے ایک بار لکھا تھا کہ ــــ آج قرآن کو دوبارہ نازل ہونا چاہیے: Quran has to be re-revealed today. یہ ایک صحیح بات ہے جس کو غلط الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ آج ہم کو نئے قرآن کی ضرورت نہیں، ضرورت صرف یہ ہے کہ اسلوب عصر میں قرآن کی تبیین کی جائے۔ چناں چہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ: Quran has to be re-defined today. قرآن کی تمام تعلیمات ابدی ہیں تاہم اسلوب کلام کا تعلق مخاطب گروہ سے ہے، اس لیے اسلوب کلام ہر دور میں بدلتا رہتا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ قرآن کی ابدی تعلیمات کو اسلوب عصر میں اس طرح بیان کیا جائے کہ وہ آج کے لوگوں کے لیے قابل فہم بن سکیں۔ ملتِ مسلمہ کا کیس ہجری کیلنڈر کے لحاظ سے آج محرم 1434 کی پہلی تاریخ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہجرت کی تھی، اُس پر اب 1433 سال گزر چکے ہیں۔ آپ کے زمانے میں جس ملتِ مسلمہ کی تشکیل ہوئی تھی، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ اب ختم ہو چکی ہے۔ آج جس کو ہم ملتِ مسلمہ کہتے ہیں، وہ ملت کی بعد کی نسلیں ہیں جو مختلف حالات سے گزرتے ہوئے اکیسویں صدی عیسوی میں داخل ہوئی ہیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ ہر امت اپنے بعد کے دور میں زوال کا شکار ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمان دنیا کے تقریباً تمام ملکوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ مسلمان، قرآن کی زبان میں، خیر امت (3:110) نہیں ہیں، وہ بعد کے دور میں وجود میں آنے والے ایک زوال یافتہ گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کا کیس وہی ہے جس کو قرآن میں طُولِ اَمَد کے ذریعے پیدا ہونے والی قساوت (57:16) کا کیس کہا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues