اسلامی لٹریچر کا معاملہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
جب کہ مسلمانوں کا پولیٹکل ایمپائر قائم ہوا، اُس وقت مسلمانوں میں عام طور پر سیاسی طرز فکر پیدا ہو گیا۔ اس سیاسی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد کے مسلمانوں میں جہاد کے نام پر قتال (جنگ) کا تصور غالب آ گیا، حتیٰ کہ قتال اُن کے لیے مذہبی عقیدے کا جز بن گیا، جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتال کو صرف ضرورت شدید ہ (law of necessity) کے طور پر اختیار کیا گیا تھا۔
بعد کے دور میں مسلمانوں کو جو دبَد بہ حاصل ہوا، اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر عام طور پر فخر (pride) کا ذہن پیدا ہو گیا۔ وہ دوسروں کے مقابلے میں، اپنے آپ کو برتر سمجھنے لگے۔ اِسییی ذہن کا یہ نتیجہ تھا کہ انھوں نے اپنے زیر قبضہ علاقوں کو دارالاسلام اور دوسروں کے زیر قبضہ علاقوں کو دارالکفر کہنا شروع کر دیا، حالاں کہ قرآن کے مطابق ، تمام دنیا یکساں طور پر دارالانسان کی حیثیت رکھتی تھی۔ دارالکفر اور دارالاسلام کی اصطلاحیں سرتا سر مبتدعانہ اصطلاحیں ہیں جو بعد کے دور میں وضع کی گئیں۔ اِس صورت حال کا یہ نتیجہ تھا کہ بعد کے زمانے میں اسلام کو صرف احکام اور قوانین کا ایک مجموعہ سمجھ لیا گیا، اِس ذہن کا نتیجہ تھا کہ علما کے درمیان علم فقہ کو غلبہ حاصل ہو گیا اور قرآن اور حدیث عملاً فقہ کے تابع قرار پاگئے۔ دورِ زوال کا یہ بھی ایک ظاہر ہ ہے کہ دین میں اسپرٹ (spirit) کی اہمیت گم ہو جاتی ہے اور ساری اہمیت فارم (form) کو حاصل ہو جاتی ہے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دین میں ساری بحثیں فنی اور قانونی پہلوؤں پر مرتکز ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک شدید تر خرابی پیدا ہو جاتی ہے، یعنی بہت سے فرقوں کا وجود میں آنا۔ یہاں پہنچ کر ملتِ واحدہ، ملتِ متفرقہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
واقعات بتاتے ہیں کہ بعد کے دور میں ملتِ مسلمہ کے درمیان یہ تمام خرابیاں کامل طور پر پیش آئیں ۔ ان تمام خرابیوں کا سبب وہی چیز ہے جس کو مذکورہ حدیث میں ’مثناة‘ کہاگیا ہے، یعنی ملت کے دورِ زوال میں پیدا ہونے والا لٹریچر ۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے تمام فکری مسائل براہِ راست طور پر اسی صورت حال کا نتیجہ ہیں۔ اب اس صورت حال کا حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ قرونِ مشہود لہا بالخیر کے بعد مسلمانوں نے عربی زبان میں بطور خود جو لٹریچر تیار کیا، اُن سب کو اب مسلمانوں کے کلاسکل لٹریچر (classical literature) کا درجہ دے دیا جائے ۔ اب دوبارہ کھلے ذہن
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues