تحریکوں کی ناکامی کا سبب
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
شروع نہیں کیا جائے گا، بلکہ افراد کی سطح سے شروع کیا جائے گا۔ ایسا نہیں کیا جائے گا کہ یہ فرض کر لیا جائے کہ قوم تو موجود ہے، اب اُس کو صرف اجتماعی اقدام کی طرف متحرک کرنا ہے، بلکہ یہ تسلیم کیا جائے گا کہ قوم موجود نہیں ہے اور افراد کی اصلاح کر کے دوبارہ قوم کو وجود میں لانا ہے۔ یہی اللہ کا قانون ہے، اور اللہ کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی (62 اس معاملے کی ایک واضح عملی مثال موجودہ زمانے میں پائی جاتی ہے، اور یہ فلسطین اور پاکستان کی مثال ہے۔ دونوں کا کیس بالکل ایک ہے۔ فلسطین کا تعلق عرب دنیا سے ہے، اور پاکستان کا تعلق بقیہ مسلم دنیا سے۔ فلسطین اور پاکستان کا معاملہ گویا موجودہ زمانے میں اس قانون الہی کو سمجھنے کے لیے عملی مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ فلسطین اور پاکستان دونوں کے کیس میں ایسا ہوا کہ قوم کی سطح پر ایک مسلم ملک وجود میں لانے کی کوشش کی گئی، مگر دونوں جگہ مکمل طور پر ناکامی ہوئی۔ فلسطین کا مسئلہ 1948 میں شروع ہوا۔ فلسطینی جدوجہد پر اب 60 سال سے زیادہ مدت گزر چکی ہے۔ اس جدوجہد میں جان و مال کی جو قربانی دی گئی ہے، وہ شاید پوری مسلم تاریخ کی تمام قربانیوں سے بھی زیادہ ہے، مگر انجام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ پوری جدوجہد معکوس نتیجہ (counter productive) کی بدترین مثال ثابت ہوئی ہے۔
اس معاملے میں دوسری مثال پاکستان کی ہے۔ پاکستان 1947 میں بنا۔ اس سے پہلے برصغیر ہند کا پورا علاقہ ایک واحد ملک کی حیثیت رکھتا تھا جس میں مسلمان دوسری قوموں کے ساتھ آباد تھے۔ اُس وقت مسلمانوں کے کچھ رہنماؤں نے متحد ہندوستان میں دو قومی نظریہ (two nation theory) چلایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں۔ اُن کو اپنے مذہب کے مطابق، زندہ رہنے کے لیے ایک الگ ملک چاہیے ۔ یہ تحریک اس مفروضے پر قائم تھی کہ مسلم قوم کے نام سے ایک امت آل ریڈی موجود ہے، اب صرف اُس کو ایک علاحدہ خطہ ارض کی ضرورت ہے۔ اُس زمانے میں ایک مسلم شاعر کا یہ شعر بہت مقبول ہوا: نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی جان و مال کی بے پناہ قربانی کے بعد 1947 میں جغرافی معنوں میں پاکستان وجود میں آ گیا، مگر معنوی اعتبار سے، پاکستان کا اب تک کوئی وجود نہیں۔ پاکستان میں نہ اسلام آیا اور نہ وہاں کے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues