Al-Risala · June 2013 · page

تحریکوں کی ناکامی کا سبب

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

مسلمانوں کو امن اور تحفظ حاصل ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج انڈیا کے مسلمان، اسلام اور امن و تحفظ دونوں اعتبار سے، پاکستان کے مسلمانوں سے بہت زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1971 سے پہلے انڈیا کے مسلمان، پاکستان جانے کے لیے بے تاب رہتے تھے، مگر آج انڈیا کا کوئی مسلمان، پاکستان جانے کے لیے تیار نہیں، کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ انڈیا میں وہ پاکستانی مسلمانوں کے مقابلے میں ہر اعتبار سے زیادہ بہتر حالت میں ہے۔

پاکستان بننے کے اول دن ہی سے وہاں باہمی ٹکراؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خاں کو گولی مار دی گئی۔ پاکستان کے مسلمانوں میں جو باہمی لڑائی شروع ہوئی، اس میں اب تک تقریباً 40 ہزار آدمی ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکا میں ایک آزاد تنظیم ہے۔ اس کا نام—فنڈ فار پیس (Fund for Peace) ہے۔ اس تنظیم کا ایک کام یہ ہے کہ وہ ملکوں کے حالات کا سالانہ انڈیکس تیار کرتی ہے۔ اس تنظیم نے 2011 میں ملکوں کا جو انڈیکس شائع کیا ہے، اس کے مطابق، پاکستان ایک ناکام ریاست (failed state) کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ پاکستان کے مسلم رہنماؤں نے یہ فرض کر لیا کہ امت مسلمہ عملاً موجود ہے، اب صرف یہ ضرورت ہے کہ اس کو اقتدار حاصل ہو جائے، جب کہ اصل صورتِ حال یہ تھی کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، امتِ مسلمہ کا وجود ہی نہ تھا۔ جو چیز موجود تھی، وہ امت کے نام پر صرف ایک انبوہ تھا۔ ایسی حالت میں کام کا آغاز افراد کی اصلاح کر کے دوبارہ امت کو وجود میں لانا تھا۔ پاکستان کے مسلم رہنماؤں نے جو کچھ کیا، وہ گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا (putting the cart before the horse) تھا۔ اس قسم کا غیر فطری منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، اور پاکستان کے معاملے میں ایسا ہی ہوا۔

فلسطین کی تحریک میں تمام عرب دنیا براہِ راست طور پر اور بقیہ مسلم دنیا بالواسطہ طور پر شریک ہے، مگر بے پناہ قربانیوں کے باوجود ابھی تک ایسا نہیں ہوا کہ فلسطین میں عربوں کی مطلوب حکومت قائم ہو جائے۔ لیکن جہاں تک سبق کا تعلق ہے، وہ فلسطین کی مثال میں بھی پوری طرح موجود ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page