Al-Risala · June 2013 · page

قبولِ اسلام کا ایک واقعہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

قبولِ اسلام کا ایک واقعہ

4 مارچ 2013 کو یہ واقعہ ہوا کہ نیدر لینڈ (Netherlands) کے ایک مشہور سیاسی لیڈر نے اسلام قبول کر لیا۔ اُن کا نام یہ ہے۔ ارنا ڈوان ڈارن (Ernaud Van Dorn)۔ دوسرے عہدوں کے علاوہ، وہ ڈچ پارلیمنٹ کے ممبر ہیں۔ انٹرنیٹ پر اس واقعے کی خبر حسبِ ذیل عنوان کے تحت دیکھی جا سکتی ہے:

Anti-Islam Dutch Politician Converts to Islam

ارنا ڈوان ڈارن پہلے اسلام کے سخت مخالف تھے۔ بعد کو کچھ ایسے واقعات پیش آئے جس نے ان کے اندر ایک نیا تجسس پیدا کر دیا۔ انھوں نے خاموشی کے ساتھ باقاعدہ طور پر اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا۔ آخر کار اُن کی فطرت جاگ اٹھی۔ انھوں نے کھلے طور پر ماضی میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا۔ وہ وہاں کی ایک مقامی مسجد (مسجد السنہ) میں گئے اور وہاں کے امام فواز الجنید کے سامنے کلمہ شہادت ادا کر کے اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ اس سلسلے میں میڈیا میں جو خبریں آئی ہیں، اس کی چند سطریں یہ ہیں۔ ہیگ میونسپل کونسل کے ایک ممبر اور رائٹ ونگ فریڈم پارٹی کے سابق ممبر ارنا ڈوان ڈارن نے ٹویٹر پر اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کر دیا ہے:

The member of Hague municipal council and the former member of the right-wing Freedom Party, Ernaud Van Dorn, has announced his conversion to Islam through his account on Twitter. قبولِ اسلام کے اس طرح کے واقعات برابر میڈیا میں آتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام فطرت کا دین ہے، جو انسان کی فطرت ہے، وہی اسلام ہے۔ اگر کوئی شخص بظاہر اسلام کا مخالف ہو تو اس کی مخالفت یقیناً غلط فہمی کی بنیاد پر ہوگی۔ آپ اس کی غلط فہمی کو دور کر دیجیے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ قرآن کے الفاظ میں، جو شخص اسلام کا دشمن بنا ہوا تھا، وہ اسلام کا دوست بن گیا ہے (41:34)۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page