اسلام کے نام پر سیاست
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
اسلام کے نام پر سیاست
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بار بار ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ ایک اسلام پسند جماعت (Islamist party) اُٹھتی ہے۔ وہ اسلام کے نام پر سیاسی تحریک چلاتی ہے، یہاں تک کہ وہ موجودہ حکمرانوں کو ہٹا کر اپنی پارٹی کی حکومت بنا لیتی ہے۔ اس واقعے پر ساری دنیا کے مسلمان خوشی مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں ملک میں اسلام آ گیا۔ مگر بہت جلد معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز آئی، وہ اسلام نہیں تھا، بلکہ صرف یہ تھا کہ حکومت کا ڈھانچہ بدل گیا، یعنی یہ معاملہ تبدیلی افراد کا معاملہ تھا، نہ کہ تبدیلی نظام کا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب سیاسی بے بصیرتی ہے جو موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمانوں پر چھائی ہوئی ہے، خواہ وہ علما ہوں یا غیر علما۔ وہ سیاسی بے بصیرتی یہ ہے کہ لوگ صرف لفظی نعروں کو جانتے ہیں۔ اُن کو یہ خبر نہیں کہ ’’انقلاب‘‘ کے نام پر جو واقعہ پیش آیا ہے، وہ صرف سیاسی اکھڑ پچھاڑ کی بنا پر پیش آیا ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلام کی بنا پر۔
اصل یہ ہے کہ جب بھی کچھ لوگ اقتدار کی کرسی پر ہوں، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، خواہ وہ مخلص ہوں یا غیر مخلص، ہمیشہ عوام میں اُن کے خلاف شکایت کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ اجتماعی نظام میں اس عنصر کو اینٹی انکمبنسی فیکٹر (anti-incumbency factor) کہا جاتا ہے۔ سادہ لفظوں میں اس کو اینٹی اتھارٹی (anti-authority) ماحول کہہ سکتے ہیں۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن پارٹیاں ہمیشہ یہی کرتی ہیں کہ وہ برسرِ اقتدار گروہ کے خلاف موجود شکایتوں کو استعمال (exploit) کر کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
جن مسلم ملکوں میں یہ واقعہ پیش آرہا ہے کہ وہاں نہایت دھوم کے ساتھ ’’اسلام‘‘ آیا اور پھر جلد ہی معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز آئی تھی، وہ اسلام نہ تھا، بلکہ صرف اربابِ اقتدار کی تبدیلی (replacement) تھی، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ صورتِ حال ہر اُس مسلم ملک میں پیش آئی جہاں نام نہاد اسلام پسند پارٹیاں سرگرم عمل ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues