اقدام کی شرط
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
اقدام کی شرط
سویڈن (یورپ) کے شہر اسٹاک ہوم کا ایک عجیب واقعہ میڈیا میں رپورٹ کیا گیا ہے۔ یہاں ایک اسٹیشن پر ایک کمیوٹر ٹرین (commuter train) خالی کھڑی ہوئی تھی۔ ایک 20 سالہ لڑکی جو ٹرین میں صفائی کا کام کرتی تھی، وہ ڈرائیور کے کیبن میں داخل ہوگئی۔ اس کو اتفاق سے ڈرائیور کی چابی مل گئی تھی، چناں چہ اس نے گاڑی کو اسٹارٹ کر دیا۔ گاڑی پٹری پر تیزی سے چلنے لگی۔ لڑکی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ ٹرین کو کس طرح روکنے۔ ٹرین چلتی رہی، یہاں تک کہ وہ پٹری سے اتر کر ریلوے لائن کے کنارے واقع ایک بلڈنگ سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے میں لڑکی سمیت بلڈنگ کے کئی افراد زخمی ہوئے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (16 جنوری 2013) میں یہ خبر درج ذیل عنوان کے تحت دی گئی ہے: Cleaning woman steals train, crashes it into house. (p. 22)
اس واقعے میں ایک اہم سبق ہے، وہ یہ کہ کسی معاملے میں اقدام صرف اُس انسان کے لیے جائز ہے جو اپنے اقدام کے نتیجہ (result) کو جانتا ہو۔ جو شخص اپنے اقدام کے نتیجے کو نہ جانے، اُس کے لیے اقدام ہرگز جائز نہیں۔ کوئی آدمی اگر اتنا بے شعور ہے کہ وہ نتیجہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اس کے باوجود اگر وہ اقدام کر دیتا ہے تو یقینی طور پر اس کا انجام ہلاکت خیز ہوگا۔ اقدام کرنے والا خود بھی تباہ ہوگا اور اسی کے ساتھ وہ دوسروں کی تباہی کا باعث بنے گا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک مقرر جذباتی تقریر کے ذریعے لوگوں کو ایک سمت میں دوڑ ادیتا ہے، مگر وہ نہیں جانتا کہ روکنے کے وقت لوگوں کو وہ کس طرح روکے۔ ایسا آدمی صرف لوگوں کی تباہی میں اضافہ کرتا ہے، وہ ہرگز لوگوں کی تباہی میں کمی کرنے والا نہیں۔
گاڑی کو چلانا صرف اُس انسان کے لیے جائز ہے جو گاڑی کو روکنا بھی جانتا ہو۔ جو شخص گاڑی کو روکے کا ہنر نہ جانے، اس کے لیے گاڑی کا چلانا سرے سے جائز ہی نہیں۔ یہ اصول جس طرح مادی ٹرین کے لیے درست ہے، اسی طرح وہ انسانی زندگی کے لیے بھی یکساں طور پر درست ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues