Al-Risala · June 2013 · page

سب سے بڑی قربانی

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

سب سے بڑی قربانی

قربانی (sacrifice) کا لفظ بولا جائے تو عام طور پر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لڑ کر جان دے دینا۔ عام طور پر اس کو شہادت سمجھا جاتا ہے، اور یہ کہ یہی شہادت سب سے بڑا عمل ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جسمانی قربانی سے زیادہ بڑی قربانی نفسیات کی قربانی ہے۔ سب سے بڑی قربانی سر کٹانا نہیں ہے، بلکہ سر جھکانا ہے۔ تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے صرف اُن لوگوں نے انجام دئے ہیں جو اصول کی خاطر سر جھکانے کے لیے تیار ہو گئے۔

ایک بار میں امریکا کے ایک شہر میں گیا۔ وہاں امریکی مسلمانوں کی ایک بڑی تنظیم قائم تھی۔ اس کے ایک سینئر ممبر نے جوش کے ساتھ کہا کہ اب میں نے لیڈر شپ (leadership) کا رول لے لیا ہے۔ بات یہ تھی کہ اُن کو تنظیم کا صدر منتخب کیا گیا تھا، مگر ٹرم پورا ہونے سے پہلے انھوں نے صدارت کے عہدے سے استعفا دے دیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ دوسرے حضرات ان کا تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ مذکورہ مسلمان اپنے اوصاف کے اعتبار سے، نہایت لائق انسان تھے۔ وہ تنظیم کو ترقی دینے کے لیے بہت کچھ کر سکتے تھے، مگر کوئی شخص خواہ وہ کتنا ہی زیادہ لائق ہو، وہ تنہا کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ بڑا کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بہت سے لوگ اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں۔ بقیہ لوگوں کے لیے ساتھ دینا صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے راضی ہوں۔ اجتماعی زندگی کا اصول یہ ہے کہ ایک شخص لیڈر شپ کا رول صرف اُس وقت کامیابی کے ساتھ انجام دیتا ہے، جب کہ دوسرے لوگ شعوری طور پر اس بات پر راضی ہو جائیں کہ اُن کو سپورٹیورول (supportive role) ادا کرنا ہے، نہ کہ لیڈر شپ (leadership) کا رول۔ سپورٹیورول پر راضی ہونا بلا شبہ ایک عظیم قربانی ہے۔ کوئی بڑا کام صرف اُس وقت انجام پاتا ہے، جب کہ ایک شخص کو لیڈر بنا کر بقیہ تمام لوگ سپورٹیورول ادا کرنے پر راضی ہو جائیں۔ یہی سب سے بڑی قربانی ہے، اور اس قربانی کے بغیر کسی بڑے کام کا انجام پانا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page